Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
شخصیات > صحابہ
حضرت امیر...
حضرت عائشہ...
حضرت ابوبکر...
حضرت سعد بن...
حضرت فاطمتہ...
حضرت خدیجہ...
حضرت حسین رضی...
حضرت خالد بن...
حضرت علی رضی...
حضرت عثمان...
حضرت عمر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

شخصیات

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

 
   
 
مسلمانوں کے دوسرے خلفیہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بہت عجیب ہے۔ جب مکے میں حضور اکرم نے لوگوں کو ایک خدا کو ماننے کی دعوت دی تو بہت کم لوگ تھے جو ابتداءمیں اسلام لائے اور وہاں کے کافروں نے ان پر ظلم و ستم کی انتہاءکردی۔ حضرت عمر بھی انہی لوگوں میں شامل تھے۔ جو مسلمانوں کی شدید مخالفت کررہے تھے۔
ایک دن انہوں نے غصے میں سوچا کہ چلو آج حضور اکرم کو قتل کردیتا ہوں تاکہ نہ تو حضور رہیں نہ اسلام۔ یہ سوچ کر وہ اپنی تلوار لے کر باہر نکل پڑے۔ راستے میں انہیں ایک صحابی ملے جنہوں نے انہیں بتایا کہ ان کی بہن اور بہنوئی بھی اسلام قبول کرچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کو بہت غصہ آیا وہ سیدھے اپنی بہن کے گھر گئے۔ وہاں پر ایک صحابی ان کی بہن اور بہنوئی کو قرآن شریف پڑھا رہے تھے حضرت عمر کے آنے پر وہ چھپ گئے۔ حضرت عمر نے اپنی بہن اور بہنوئی کوخوب مارا یہاں تک کہ بہن کی چوٹ سے خون نکلنے لگا۔ حضرت عمر کا یہ دیکھ کر دل پسیج گیا انہوں نے بہن سے کہا کہ اچھا جو تم پڑھ رہی تھیں مجھے بھی سناﺅ جب انہوں نے قرآن کی آیات سنیں تو فوراً ہی حضرت عمر کا دل اسلام کے لئے کھل گیا اور وہ اسلام لے آئے۔
حضرت عمر فاروق کے مسلمان ہونے سے مسلمانوں میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا ہوگیا کیونکہ حضرت عمر بہت بہادر اور طاقتور شخص تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے۔ حضور اکرم بھی اپنے فیصلوں میں حضرت عمر کو شریک رکھا کرتے تھے۔ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینے گئے تو حضرت عمر بھی وہاں روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر بھی حضرت عمر دل و جان کے ساتھ اسلام کے پھیلانے کی جدوجہد میں لگے رہے۔ جنگ بدر، جنگ احد اور دیگر جنگوں میں حضرت عمر نے بہادری کے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیئے۔
مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق کے انتقال کے بعد حضرت عمر مسلمانوں کے خلیفہ چنے گئے۔ آپ کے دور میں مسلمانوں نے بہت سی فتوحات کیں اور مسلمان کی ریاست ایک بڑے خطے میں قائم ہوگئی۔
حضرت عمر کا عدل و انصاف بہت مشہور ہے۔ وہ غریبوں کا بھی بہت خیال رکھتے۔ ان کا رعب و دبدبہ بہت زیادہ تھا اور آپ اسلام کے خلاف کوئی بات نہ سن سکتے تھے۔ آپ نے انتہائی سادگی کے ساتھ زندگی گزاری۔ 24 ھ کو آپ کو ایک غلام نے مسجد نبوی میں شہید کردیا۔
اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close