Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
شخصیات > صحابہ
حضرت امیر...
حضرت عائشہ...
حضرت ابوبکر...
حضرت سعد بن...
حضرت فاطمتہ...
حضرت خدیجہ...
حضرت حسین رضی...
حضرت خالد بن...
حضرت علی رضی...
حضرت عثمان...
حضرت عمر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

شخصیات

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

 
   
 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ جب حضور اکرم نے دین کی دعوت پھیلانے کاآغاز کیا تو حضرت ابو بکر صدیق ہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے آپ کی دعوت پر سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔
حضرت ابو بکر صدیق مکے میں بڑی عزت والے تھے۔ ہر ایک ان سے محبت رکھتا تھا اور ان پر اعتبار کرتا تھا۔ مگر قبول اسلام کے بعد آپ پر سخت مشکلات آئیں۔ مکے کے کافر آپ کی جان کے دشمن بن گئے اور شدید تکالیف پہنچائیں۔ مگر حضر ابوبکر صدیق نے ان سب تکلیفوں کو برداشت کیا مگر اسلام کا دامن نہ چھوڑا۔ یہی نہیں بلکہ آپ نے مکے کے بہت سے غلاموں کو آزاد کروایا جنہیں اسلام لانے کی وجہ سے ان کے کافر آقا ظلم کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ حضرت بلال کوبھی حضرت ابو بکر صدیق ہی نے ان کے ظالم آقا سے مہنگے داموں خرید کر آزاد کیا۔
جب مکے کے مسلمانوں پر کافروں کا ظلم بہت بڑھ گیا اور وہ حضور اکرم کے (نعوذباللہ) قتل کے منصوبے بنانے لگے تو اللہ کی طرف سے حضور اکرم کو مکے سے مدینے ہجرت کرنے کا حکم ہوا۔ رات کی تاریکی میں کہ جب حضور کی جان کے پیاسے کافروں نے حضور کے قتل کی نیت سے ان کے گھر کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ حضور اکرم حضرت ابو بکر صدیق کے ہمراہ خاموشی سے مدینے کی طرف روانہ ہوگئے اور راستے میں ایک غار میں پناہ لی۔ غار کے اندر بہت سے سوراخ تھے جن کو حضرت ابو بکر صدیق نے کپڑے کے ٹکڑوں سے بند کردیا مگر ایک سوراخ باقی تھا حضرت ابو بکر صدیق نے اس سوراخ پر اپنے پیر کا انگوٹھا رکھ دیا۔ اس سوراخ میں ایک زہریلا سانپ تھا جس نے آپ کے انگوٹھے پر کاٹ لیا۔ تکلیف کی شدت سے حضرت ابو بکر کے آنسو نکل آئے۔ حضور کو معلوم ہوا تو آپ نے ان کے انگوٹھے پر اپنا لعاب مبارک لگایا جس سے ان کی تکلیف ختم ہوگئی اور چند دنوں بعد آپ حضور کے ہمراہ مدینے پہنچ گئے۔
مدینے میں حضور نے پہلی اسلامی ریاست قائم کی ۔ وہاں پر بھی حضرت ابو بکر صدیق حضور کا ہر معاملے میں ساتھ دیتے ۔ جنگ بدر، جنگ احد اور جنگ خندق کے زمانے میں حضرت ابو بکر سب سے آگے آگے رہے۔ ایک جنگ (غزوہ تبوک) کے موقع پر جب حضور اکرم نے صحابہ سے جہاد کے لیے سامان جمع کرنے کا کہا تو صحابہ کرام نے دل کھول کر جہاد فنڈ میں حصہ ادا کیا مگر ابو بکر صدیق سب پر بازی لے گئے کیونکہ وہ اپنے گھر کا تمام سامان اٹھا کر لے آئے تھے۔
حضور کے انتقال کے بعد تمام مسلمانوں نے حضرت ابو بکر کو اپنا خلیفہ منتخب کیا اور حضرت ابو بکر صدیق نے بھی بہت اچھے انداز سے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور 63 سال کی عمر میں وفات پائی اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close