Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
شخصیات > صحابہ
حضرت امیر...
حضرت عائشہ...
حضرت ابوبکر...
حضرت سعد بن...
حضرت فاطمتہ...
حضرت خدیجہ...
حضرت حسین رضی...
حضرت خالد بن...
حضرت علی رضی...
حضرت عثمان...
حضرت عمر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

شخصیات

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

 
   
 
حضرت خالد بن ولید ؓ قریش کے ایک معزز افراد اور بنو مخزوم قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔
آپ کے والد ولید بن مغیرہ کا شمار بھی قریش کے ترکی اور فہیم اور دانش مند اشخاص میں ہوتا تھا۔ رسول اکرم آپ کے خالو تھے۔ جب آنحضور نے اہل قریش کو بتوں کی پوجا سے منع کیا تو سب آپ کے خلاف ہوگئے۔ اس وقت آپؓ کی عمر 17 برس تھی۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ حضور کے دشمن تھے۔ بعد میں آپ نے اسلام قبول کیا۔
حضرت خالد بن ولید ؓ کے تلوار کے سائے میں پرورش پائی۔ اس لےے وہ بہت پھرتیلے اورنڈر تھے۔ کشتی، گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے ماہر تھے۔ ایک دفعہ بچپن میں حضرت عمر ؓ کو پچھاڑ کر ان کی پنڈلی کی ہڈی توڑ دی تھی۔
ایک مرتبہ حضور نماز پڑھ رہے تھے کہ خالد ؓ کے دل میں خیال ہوا آپ پر وار کردوں (نعوذباللہ) لیکن پھر قریب آتے ہی رک گئے اور دل میں کہنے لگے کہ جس پر میں حملہ کرنے لگاہوں ان کی حفاظت تو خدا کررہا ہے۔ اس کے واقع کے بعد ان کے دل میں نبی مہربانی کےلئے محبت پیدا ہوگئی۔ اور یہی محبت ان کے ایمان لانے کا ذریعہ بنی۔
حضرت خالد بن ولید ؓ کئی جنگوں میں شریک رہے۔ اسلام لانے کے بعد حاکم شام کا مقابلہ کرنے کےلئے تین ہزار صحابہ ؓ کی فوج تیار ہوئی اس میں آپ بھی شامل تھے۔ خونریز معرکہ ہوا مخالفین ایک لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوا۔ اگلے روز اس لشکر کی کمان حضرت خالد ؓ نے اپنے ہاتھوں میں لی اور اعلیٰ جنگی اصولوں پر اپنی تھوڑی سی فوج مجتمع کیا اور حاکم شام کی ٹڈی دل فوج کو تہس ہنس کردیا اور فتح پائی۔
رسول خدا کے وصال کے بعد صدیق اکبر ؓ کے دور میں آپ اسلامی لشکروں کی سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے رہے۔ معرکہ ٭٭ میں آپ نے صرف تیرہ ہزار فوجیوں کے ساتھ مسلمہ بن کذاب کی لاکھوں کی فوجی کو شکست دی۔
حضرت خالد بن ولید ؓ جب بستر علالت پر تھے تو آپ قریب بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا۔
” میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔ میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تلوار‘ تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو۔ لیکن افسوس ! موت نے مجھے بستر پر آدبوچا۔ میدان کا زار میں شہادت نصیب نہ ہوئی۔“
اس پر لوگوں نے ان کو یہ کہا کہ رسول اللہ نے آپ کو ”سیف اللہ“ یعنی ”اللہ کی تلوار“ کا خطاب عطا فرمایا ہے۔ آپ اگر کسی کافر کے ہاتھ سے مارے جاتے تو اس کا مطلب تھا کہ ایک دشمن خدا نے اللہ کی تلوار کو توڑ ڈالا.... جو ناممکن تھا۔
یہ سن کر آپ کو کچھ اطمینان نصیب ہوا۔
آپ ؓ نے جنگ احد سے حضرت عمر ؓ تک جتنی جنگیں لڑیں ان کی تعداد 41 ہے اور ان جنگوں میں آپ نے ایک جنگ بھی نہیں ہاری۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close