Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
دریافت > مہم جوئی
وائکنگز کی...
گرین لینڈ
انٹارکٹیکا...
کوہ ایورسٹ کی...
نئی دنیا
قطب شمالی پر...
کرہ ارض کے...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

دریافتیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

کوہ ایورسٹ کی تسخیر

 
   
 
ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی ایورسٹ دنیا کی سب سے بلند چوٹی ہے۔ اگر اسے زمین پر پھیلا دیا جائے تو لمبائی میں پانچ میل سے زیادہ جگہ گھیرے گی۔ اس چوٹی پر پہنچنے کے لیے 1921ء سے مہموں کا آغاز ہوا۔ ہر میم میں قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ مئی 1922ء میں انسانی قدم پچیس ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ گئے تھے مگر آگے سفر جاری نہ رہ سکا۔
 1924ءمیں پھر ایک مہم تیار ہوئی۔ اس مہم نے چھبیس ہزار فٹ کی بلند پر پڑائو کا انتظام کیا۔ ان میں سے ایک روز دو بہادر اوپر چڑھنے لگے اور اٹھائیس ہزار فٹ پر پہنچ گئے۔ یکایک ایک کا گلا کہر کے باعث خراب ہوگی۔ دوسا رات کو بھلا چنگا سویا، صبح اٹھا تو برفستانی ہوا نے اس کی بینائی چھین لی۔ وہ لوگ واپس ہوئے تو دو اور آدمی منزل مقصود کی طرف گامزن ہوگئے۔ چوٹی صرف آٹھ سو فٹ دور رہ گئی تھی، پھر ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ اس طرح یہ مہم بھی ناکام رہی۔
1934ء اور 1936ء میں اور اس کے بعد بھی کئی مہمیں ایورسٹ کو فتح کرنے کے لیے گئیں۔ آخر 1953ء میں ایک مہم کرنل سرجان ہنٹ کی سرکردگی میں روانہ ہوئی۔ جس میں آسٹریلیا کا ایک کوہ پیما ایڈمنڈ ہلا ری اور نیپال کا ایک بہادر شرپاتن سنگھ بھی شامل تھے۔ ہلاری اور تن سنگھ جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر نکلے اور تمام مشکلات و مصائب کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے 29 مئی 1953ء کو ایورسٹ کی چوٹی پر جاپہنچے۔ کچھ دیر وہاں گزار کر بخیر و عافت واپس آگئے۔ اس طرح بتیس سال کی جدوجہد کے بعد دنیا کی بلند ترین چوٹی کو انسان نے مسخر کرلیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close