Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
دریافت > مہم جوئی
وائکنگز کی...
گرین لینڈ
انٹارکٹیکا...
کوہ ایورسٹ کی...
نئی دنیا
قطب شمالی پر...
کرہ ارض کے...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

دریافتیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

قطب شمالی پر انسانی قدم

 
   
 
6اپریل1909ء کو کمانڈر رابرٹ ایڈون پئری (1856-1920)ء قطب شمالی پر پہنچ گیا۔ کرہ ارض کے انتہائی شمالی حصے کا یہ مرکز نقطہ ہے جسے ہماری دنیا کا بلند ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ پانچ اور آدمی پئری کے ہمراہ تھے۔ وہ کچھ دیر وہاں ٹھہرے۔ خوب چھان بین کرلی کہ آیا وہ واقعی عرض البلد کے 90 درجے پر پہنچ گئے ہیں۔ آس پاس کے سمندر کی گہرائی کا اندازہ کیا۔ پھر اپنے جہاز پر لوٹ آئے جس کا نام "روز ویلٹ" تھا اور وہ قطب شمالی کے سفر کی ضرورتوں کا لحاظ کرتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ پورے سفر میں صرف ایک جان تلف ہوئی۔
اس مہم کو سر کرنا آسان نہ تھا اور نہ یہ ایک جست میں سر ہوئی۔ خود پیئری نے اس سلسلے میں چار مرتبہ کوششیں کیں اور آکری کوشش میں کامیابی کا سرا اس کے سر بندھا۔
1908ء میں پیئری نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اب کے قطب شمالی پر پہنچے بغیر نہ لوٹے گا۔ چنانچہ وہ 21اگست کو روانہ ہوا۔ اس مرتب بھی سردی کا موسم گرین لینڈ میں گزارا۔ پھر چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنالیں۔ ہر ٹولی تھوڑے تھوڑے وقفے سے روانہ ہوئی۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ اگلی ٹولی بعد میں آنے والوں کے لیے راستہ بناتی جاتی اور جب وہ لوگ دیکھتے کہ رسد کم ہورہی ہے تو ان ساتھیوں کو واپس کردیتے جو بیمار یا کمزور ہوتے۔ منزل کا آخری حصہ صرف پیئری، ہن سن اور بلند حوصلگی کا یہ عالم تھا کہ قطب شمالی سے ایک میل آگے تک بڑھے چلے گئے۔ بہرحال وہ ڈیڑھ دن قطب شمالی پر ٹھہرے رہے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close