Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
دریافت > سائنس
ریڈیم
دوربین
کونین
اسٹین لیس...
چیچک کا تریاق
دوران خون کا...
پنسلین
ایکسرے
ایتھر
خوردبین
سورج کے گرد...
قطب نما
بارود
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

دریافتیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   پچھلا
 

سورج کے گرد زمین کی گردش

 
   
 
جس زمانے می میج لن عملاً زمین کے گول ہونے کا ثبوت مہیا کررہا تھا، اسی زمانے میں نکولس کوپرنیکس ایک اور نکتہ ثابت کرنے لگا ہوا تھا اور وہ یہ کہ زمین بھی دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ کوپرنیکس کو دوسرے اہل علم کی طرح زمین کے گول ہونے کا یقین تھا اور اس نے جو نیا نکتہ دریافت کیا اس کے اثرات بھی بڑے ہی دوررس تھے۔
ہیئت دنیا کے قدیم ترین علوم میں سے ہے اور اسے بہت ضروری سمجھا جاتا ہے۔ غیر مہذب لوگ بھی اجرام سماوی کے مشاہدے سے وقت اور موسموں کا حال دریافت کرتے تھے۔
قبل تاریخ زمانے میں مصر و بابل، چین و ہند میں ہیئات کی بہت کچھ معلومات حاصل ہوئیں لیکن اس علم کا نقطہ آغاز یہی تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے۔ تیسری صدر ق م میں جزیرہ ساموش کے سائنسدان ایرسٹارکس نے سب سے پہلے سورج کو مرکز قرار دیا۔ پھر ارشمیدش نے اپنا نظریہ پیش کیا۔ ایک ہزار آٹھ سو سال بعد کوپرنیکس بھی اس نتیجہ پرپہنچا جس پر ارشمیدش پہنچا تھا۔ کوپرنیکس اس دور میں پیدا ہوا جسے یورپ میں اجباء علوم کا دور کہا جاتا ہے۔ لوگ قدیمی فکر و نظر کی زنجیریں توڑنے پر آمادہ ہوچکے تھے۔ لہٰذا کوپرنیکس کے انقلابی نظریے کے لیے قبول و پزیرائی کا بندوبست ہوگیا۔

 
Next   پچھلا

Bookmark and Share
 
 
Close