Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
دریافت > سائنس
ریڈیم
دوربین
کونین
اسٹین لیس...
چیچک کا تریاق
دوران خون کا...
پنسلین
ایکسرے
ایتھر
خوردبین
سورج کے گرد...
قطب نما
بارود
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

دریافتیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

چیچک کا تریاق

 
   
 
دسویں صدی عیسوی میں یہ وبا مشرقی ادنی اور شرق اوسط میں عام ہوچکی تھی اور طبیب اس کے علاج سے عاجز تھے۔ اس موقع پر اسلام کے مشہور طبیب حکیم ابو بکر محمد بن زکریا رزای نے چیچک کا کامیاب علاج تجویز کی۔ اس مرض پر ایک مستقل کتاب لکھی جس میں مرض کے تمام پہلوئوں پر مفصل بحث کی۔ چنانچہ اٹھارھویں صدی تک مشرق میں حکیم محمد بن زکریا کے تجویز کیے ہوئے علاج سے بے شمار آدمی صحت یاب ہوتے رہے۔ حکیم موصوف کی یہ کتاب چھپ چکی ہے اور آج بھی انسانیت کے اس محسن کی عظمت کا ثبوت پیش کررہی ہے۔ طبی دنیا میں وہ پہلا شخص ہے جس نے چیچک کا علاج دریافت کیا اور اس کا اعتراف انسکائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی کیا گیا ہے۔
اٹھارھویں صدی میں ایڈورڈ جینر نام ایک انگریز نے چیچک کا علاج دریاف کرنے کی طرف توجہ کی، وہ ہر چھوٹے بڑے معاملے پر غور کرنے اور اس کی تہ تک پہنچنے کا عادی تھا۔ علاج کی دریافت کا واقعہ بڑا عجیب ہے۔ گلائوسٹر شائر کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ گئوتھن سیتلا چیچک کا تریاق ہے، اس لیے کہ جولگ گائیوں کا دودھ دوہتے تھے، وہ عموما چیچک کی بیماری سے بچے رہتے تھے، بس اس عدیقے کی بنا پر جینر چھان بین کرتا رہا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ گئوتھن سیتلا دو قسم کی ہوتی ہے اور ان میں سے صرف ایک قسم چیچک کو روکتی ہے۔
جینر نے 1796ء میں گئوتھن سیتلا سے مادہ لے کر اپنے بچے کو ٹیکا لگایا، پھر دو مہینے بعد چیچک کا مادہ ٹیکے کے ذریعے سے بچے کے جسم میں داخل کردیا اور وہ بالکل تندرست رہا۔ بس اس تجربے کی بنا پر وہ ٹیکا ایجاد ہوا جو گزشتہ ڈیڑھ سو سال میں کروڑوں آدمیوں کی جانیں چیچک جیسی موذی وبا سے بچا سکا ہے، جینر کا یہ احسان دنیا کبھی نہیں بھلا سکی، لیکن اس سے آٹھ سو سال پیشتر جس طبیب نے چیچک کو روکنے کی تدبیریں مکمل کی تھیں، اس کی یاد بھی برابر تازہ رہنی چاہئیے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close