Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
دریافت > سائنس
ریڈیم
دوربین
کونین
اسٹین لیس...
چیچک کا تریاق
دوران خون کا...
پنسلین
ایکسرے
ایتھر
خوردبین
سورج کے گرد...
قطب نما
بارود
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

دریافتیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ایکسرے

 
   
 
جرمن پروفیسر ولہم کا نراڈ روننٹ جن (1923-1845ء) نے اتفاقیہ 1895ء میں ایکس رے دریافت کرلی اور طبی دنیا نے دریافت کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے اس سے کام لینا شروع کردیا۔
ایکس رے کی دریافت کا قصہ بڑا دلچسپ ہے۔ پروفیسر روئنٹ جن شیشے کی ایک نلکی میں سے بجلی کی روگزار رہا تھا۔ نلکی کے اوپر سیاہ کاغذ لپٹا ہوا تھا اور اس میں سے ہوا بالکل نکال دی گئی تھی۔ اگرچہ بجلی کی رو میں سے روشنی نلکی کے اندر نظر نہ آسکتی تھی، تاہم پروفسیر نے دیکھا کہ پاس پلاٹینم کے جو ذرے پڑے ہوئے ہیں وہ خوب چمک رہے ہیں۔ اس نے نلکی اور ذروں کے درمیان کئی چیزیں رکھ کر تجربہ کیا۔ روشنی کی لہریں بہ دستور تمام چیزوں سے گزرتی رہیں حالاں کہ عام حالات میں وہ چیزیں روشنی کی لہروں کو روک لیتی ہیں۔
اسے یہ اندازہ تو ہوگیا کہ وہ نئی دریافت طب کے لیے خاصی مفید ہوگی، مگر وہ اس کی حقیقت سے بالکل ناواقف تھا، لہٰذا اس کا نام "ایکس" کہتے ہیں۔ بعد ازاں سائنس دانوں نے اسے پروفیسر کے نام سے موسوم کرنے کی کوشش کی، لیکن عام لوگوں کی زبان پر اس کا نام ایکس رے ہی رہا۔
آگے چل کر سائنس دانوں نے دریافت کرلیا کی روشنی کی جولہریں نظر آتی ہیں، ان کے مقابلے میں یک رے کی لہریں چھوٹی ہوتی ہیں اور انہیں بجلی یا مقناطیس سے موڑا نہیں جاسکتا۔ انجینئروں نے ایک رے کی خاص نلکیاں بنالیں جنہیں ضرورت کے مطابق مختلف اشیائ کے اندر کم و بیش گہرائی تک پہنچایا جاسکتا تھا۔ استعمال ہونے والی لہروں کی مقدار ایک فیصلہ کن عامل بن گئی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close