Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
دریافت > سائنس
ریڈیم
دوربین
کونین
اسٹین لیس...
چیچک کا تریاق
دوران خون کا...
پنسلین
ایکسرے
ایتھر
خوردبین
سورج کے گرد...
قطب نما
بارود
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

دریافتیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

قطب نما

 
   
 
کوئی نہیں جانتا کہ یہ سادہ سا آلہ کس نے بنایا اور کس نے سب سے پہلے اسے استعمال کیا۔ قیاس یہپ ہے کہ بحیرہ روم کے کسی ملاح کے پاس یہ آلہ موجود ہوگا۔ یکایک موسم خراب ہوگیا۔ آسمان پر بادل چھاگئے۔ ستاروں کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے کی کوئی صورت باقی نہ رہی اس موقع پر اسی آلے نے کام دیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بارھویں صدر کا کوئی اطالوی یا عرب ملاح ہوگا جس نے سب سے پہلے قطب نما سے کام لیا، لیکن وہ کوئی ہو اور کسی سرزمین کا رہنے والا ہو، اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ قطب نما کی ایجاد تاریخ کا ایک نہایت ہی اہم واقعہ ہے۔
چینیوں کے بعد دوسری قومیں بھی قطب نما بنانے کی مدعی ہیں۔ مثلاً عرب، یونانی، اطالوی وغیرہ۔ اس کی ذکر پہلی مرتبہ ایک انگریز الیگزاینڈر نیکم کی کی کت اب میں ملتا ہے جو بارھویں صدر میں لکھی گئی تھی لہٰذا جو کہا جاتا ہے کہ مارکو پولو نے مشرق کے سفر سے واپسی پر 1260ء میں یورپ کو قطب نما سے روشناس کیا تو صاف ظاہر ہے کہ یہ بات غلط ہے۔
مدت تک کسی کو مقناطیس کے اس اصول کا علم نہ تھا کہ قطب نما کی سوئی شمال کی طرف رہتی ہے (یا جنوب کی طرف جیسا کہ چینیوں نے اپنے حساب کے لیے مناسب سمجھا)۔
اسی طرح کسی کو یہ علم بھی نہ تھا کہ جغرافیائی قطب شمالی اور مقناطیسی قطب شمالی ایک دوسرے سے بالکل ایک جگہ مستقل نہیں رہتا، بلکہ بدلتا رہتا ہے، مقناطیسی قطب شمالی نقشے پر پہ۔لے پہل 1831ء میں متعین کیا گیا تھا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close