Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
دریافت > سائنس
ریڈیم
دوربین
کونین
اسٹین لیس...
چیچک کا تریاق
دوران خون کا...
پنسلین
ایکسرے
ایتھر
خوردبین
سورج کے گرد...
قطب نما
بارود
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

دریافتیں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

دوران خون کا اصول

 
   
 
ولیم ہاروے 1578 -1657 ایک حاذق اور محنتی طبیب تھا۔ سترھویں صدی کے اوائل میں وہ گھوڑے پر سوار ہو کر چکر لگاتا اور مریضوں کا علاج کرتا۔ اس نے یہ راز دریافت کیا کہ دل ایک پچکاری ہے جس کی بدولت خوش شریانوں اور رگوں کے راستے سارے جسم میں دورہ کرتا رہتا ہے۔ انسان کے لیے یہ شاید نہایت اہم انکشاف تھا۔
اگرچہ ہر صدر کے جنگجو اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ دل میں تلوار کی نوک کا ایک کچو کا بھی فوری موت کا باعث ہوتا ہے، لیکن ارسطو یا جالینوس یا ہیروفلس یا سولھویں صدر کے کسی روشن دماغ ڈاکٹر کو دوران خون کے نظام کا کوئی واضھ اور صحیح خاکہ تیار کرنے کی نہ سوجھی۔ ہاروے کو یہ نکتہ سوجھ گیا اور اسی سرسری خاکے پر دور حاضر کے علم طب کا بڑا حصہ تیار ہوا۔ ہاروے کے زمانے میں خوردبین موجود نہ تھی۔ اس لیے وہ بال جیسی باریک رگوں سے آگاہی حاصل نہ کرسکا جنہیں عرق شعر سے کہتے ہیں لیکن اس نے دوران خون کا جو نظریہ پیش کیا وہ آج کل اسکولوں میں تعلیم پانے والے بچوں کو بھی معلوم ہے اور یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ سترھویں صدی سے پیشتر یہ نظریہ موجود نہ تھا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close