Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > دیگر
میرا پہلا...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

اگلا   پچھلا
 

میرا پہلا روزہ

 
   
 
میرا نام سعدین ہے اور یہ کہانی میرے اور میرے بہن ‘ بھائی کے پہلے روزے کی ہے، میں اس وقت8 سال تھا اور میرے بھائی اور بہن مجھے سے بڑے تھے۔ پہلے رمضان کو ہم لوگوں کی روزہ کشائی تھی اور امی، ابو نے سب مہمانوں کو دعوت دی تھی کہ آج ہمارے بچوں کی روزہ کشائی ہے۔ عمر کے لحاظ سے میں بہت چھوٹا تھا لہٰذا امی ابو نے مجھے منع بھی کیا کہ آپ روزہ نہ رکھیں لیکن میں نے پھر بھی ضد کرکے روزہ رکھ لیا۔
اب شروع کرتے ہیں سحری سے، ویسے تو میں ہر سحری میں ہی اٹھتا تھا پر اس بار تو روزہ رکھنا تھا اس لیے سویاں‘ پراٹھا بھی خوب کھایا اور دودھ اور پانی بھی زیادہ پیا اور نماز ‘ قرآن پاک کی تلاوت کرکے سو گئے۔ اب جو ہم صبح اٹھے تو گلا خشک ہورہا تھا لیکن کیا کرتے روزہ جو رکھا تھا برداشت کیا لیکن پھر دو گھنٹے بعد بھوک بھی شدت کی لگنا شروع ہوگئی اور اسی بے چینی میں ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا تو ہم ابو اور بھائی کے ساتھ نماز پڑھنے چلے گئے، جب نماز پڑھ کے آئے تو امی ہماری حالت دیکھ کر سمجھ گئیں کہ ہمیں بھوک اور پیاس لگ رہی ہے تو امی نے میری کزن کے کان میں کچھ کہا جو میں سن نہ سکا۔
کچھ دیر بعد میری کزن میرے پاس سویاں لے کر آئیں جو کہ سحری کی بچی ہوئی تھیں اور کہا کہ یہ کھالو، پر ہم نے صاف انکار کردیا کہ ہم تو روزے سے ہیں۔ اس پر ہماری کزن نے کہا کہ سحری کی بچی ہوئی چیزیں کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا لہٰذا تم اس کو کھالو اس طرح تمہاری بھوک اور پیاس کم ہوجائے گی۔ پہلے تو ہم سوچتے رہے اور پھر کھانے کا فیصلہ کرکے سویاں کھالیں۔ بس ہمارے کھانے کی دیر تھی کہ سب نے کہا کہ اب تو تمہارا روزہ ٹوٹ گیا، ٹوٹ گیا اور ہم زار و قطار رونے لگے۔ پھر امی اور ابو نے ہمیں منایا اور اس طرح ہمارا روتے دھوتے پورا دن گزرا۔ تو یہ تھا میرا پہلا روزہ۔
آپ اپنی رائے سے مجھے ضرور آگاہ کیجیے۔
 
اگلا   پچھلا

Bookmark and Share
 
 
Close