Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > اسلامی
خطبہ حجتہ...
مکہ مکرمہ
اسم محمد کا...
فرعون کی ممی
کتنے مہربان...
قرآن کریم کا...
عورتوں پر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

خطبہ حجتہ الوداع

 
   
 
نو ذی الحج 10 ہجری بمطابق 632 عیسوی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے میدان میں تمام مسلمانوں سے ایک عظیم الشان خطاب فرمایا جسے تاریخ میں خطبہ حجتہ الوداع کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ذیل میں اس کی افادیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
یہ خطبہ تمام دینی تعلیمات کا نچوڑ ہے، اس کا نقطہ آغاز اللہ اور اس کے بندے کے درمیان صحیح تعلق کی وضاحت کرتا ہے اور بھلائی کی تلقین کرتا ہے۔
خطبہ حجتہ الوداع اسلام کے معاشرتی نظام کی بنیادیں مہیا کرتا ہے، معاشرتی مساوات، نسلی تفاخر کا خاتمہ، عورتوں کے حقوق، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک، ایک دوسرے کے جان و مال اور عزت کا احترام، یہی وہ بنیادیں ہیں جس پر اسلام کا معاشرتی نظام ترتیب پاتا ہے۔
اس خطبہ نے معاشی عدم توازن کا راستہ بند کرنے کے لیے سود کو حرام قرار دیا، کیوں کہ سود سرمایہ دار طبقہ کومحفوظ طریقے سے دولت جمع کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور ان کی تمام دولت سودی سرمائے کے حصول ہی کی وجہ سے ہوتی ہے، اس خطبہ نے بہت سے اہم قانونی اصول متعین کیے ہیں، مثلاً انفرادی ذمہ داری کا اصول، وراثت کے بارے میں ہدایت۔
سیاسی طور پر یہ خطبہ اسلام کے منشور کی حیثیت رکھتا ہے، دنیا بھر کو اس خطبہ کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ اسلامی حکومت کن اصولوں کی بنیاد پر تشکیل پائے گی اور ان اصولوں پر تعمیر ہونے والا یہ نظام انسانیت کے لیے رحمت ثابت ہوگا۔ اسی بناءپر اسے انسانیت کا منشور اعظم قرار دیا جاتا ہے۔
یہ ہمارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری پیغام ہے اور اس میں ہم ہی مخاطب بنائے گئے ہیں، اس کی نوعیت پیغمبر کی وصیت کی سی ہے۔ اس کے ایک ایک بول پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے درد بھرے انداز میں آواز بلند کی ہے کہ میں نے بات پہنچادی ہے، لہٰذا لازم ہے کہ اسے پڑھ کر ہماری روحیں کانپ جائیں، ہمارے جذبے جاگ اٹھیں۔ ہمارے دل دھڑکنے لگیں اور ہم اپنی اب تک کی روش پر نادم ہو کر اور کافرانہ نظاموں کی مرعوبیت کا قلاوہ گردنوںسے اتار کر محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close