Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > اسلامی
خطبہ حجتہ...
مکہ مکرمہ
اسم محمد کا...
فرعون کی ممی
کتنے مہربان...
قرآن کریم کا...
عورتوں پر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

قرآن کریم کا معجزہ

 
   
 
قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی آیت نے مجھے عیسائی سے مسلمان بنادیا۔ یہ ڈاکٹر غرینیہ تھے جو پیرس کے ایک کامیاب طبیب ہونے کے علاوہ فرانسیسی حکومت کے رکن تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ حکومت سے الگ ہوگئے اور پیرس چھوڑ کر فرانس کے ایک چھوٹے گائوں میں سکونت اختیار کرلی اور خدمت خلق میں مصروف ہوگئے۔
محمود مصری نے ان سے ان کے مکان پر مل کر ان کے اسلام قبول کرنے کا سبب دریافت کیا۔
قرآن کی ایک آیت، ڈاکٹر نے جواب دیا۔
کیا آپ نے کسی مسلمان عالم سے قرآن پرھا ہے، نہیں میری اب تک کسی مسلمان عالم سے ملاقات نہیں ہوئی۔
پھر یہ واقعہ کیوں کر پیش آیا۔
ڈاکٹر غرینیہ نے جواب دیا۔ مجھے اکثر سمندری سفروں میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے، میری زندگی کا بڑا حصہ پانی اور آسمان کے درمیان بسر ہوا ہے۔ اسی طرح ایک سفر میں ایک بار مجھے قرآن کا فرانسیسی ترجملہ ملا۔ یہ موسیو قاری کا ترجمہ تھا، میں نے اسے کھولا تو سورہ نور کی ایک آیت سامنے تھی جس میں ایک سمندری نظارے کی کیفیت بیان کی گئی۔
ترجمہ: جیسے اندھیرا گہرے سمندر میں، اس کا ڈھانپ لیا ہو موج نے، لہر کے اوپر لہر، اس کے اوپر بادل۔ اندھیرے پر اندھیرا اس حالت میں ایک شخص اپنا ہاتھ نکالے تو توقع نہیں کہ وہ اس کو دیکھ سکے اور جس کو خدا نور نہ دے اس کے لیے کوئی روشنی نہیں۔
میں نے اس آیت کو نہایت دلچسپی سے پڑھا جس میں سمندری نظارے کی کیفیت بیان کی گئی تھی، جب میں نے آیت پڑھی تو میں تمثیل کی عمدگی اور انداز بیاں کی واقفیت سے بے حد متاثر ہوا، میں نے خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ضرور ایک ایسے شخص ہوں گے جن کے رات اور دن میری طرح سمندری سفروں میں گزرے ہوں گے، پھر بھی مجھے حیرت تھی کہ انہوں نے گمراہیوں کی آوارگی اور ان کی جدوجہد کی بے حاصلی کو کیسے مختصر الفاظ میں بیان کیا ہے گویا کہ وہ رات کی سیاہی، بادلوں کی تاریکی اور موجوں کے طوفان میں ایک جہاز پر کھڑے ہیں اور ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی بدحواسی کو دیکھ رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ سمندری خطرات کا کوئی بڑے سے بڑا ماہر بھی اتنے کم الفاظ میں اتنے کامیاب طور پر خطرات بحر کی تصویر کشی نہیں کرسکتا۔
لیکن اس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عربی
نے کبھی زندگی بھر میں سمندر کا سفر نہیں کیا، اس انکشاف کے بعد میرا دل روشن ہوگیا۔ میں نے سمجھا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں ہے بلکہ اس خدا کی آواز ہے جو رات کی تاریکی میں ہر ڈوبنے والے کے ہی حوصلہ کو دیکھ رہا ہوتا ہے،اس کے بعد میرے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ میں مسلمان ہوجائوں۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close