Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > اسلامی
خطبہ حجتہ...
مکہ مکرمہ
اسم محمد کا...
فرعون کی ممی
کتنے مہربان...
قرآن کریم کا...
عورتوں پر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

عورتوں پر شفقت

 
   
 
پرانے زمانے میں ہمارے رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے عورتوں کو اچھ نہ سمجھا جاتا تھا۔ آپﷺ نے سب سے پہلے ان پر بہت احسان فرمایا، ان کو عزت دی اور بتایا کہ عورتیں بہت عزت اور ہمدردی کے لائق ہیں۔ عورتوں کی حق رسی کی۔ عزت اور تربیت کے لحاظ سے ان کو مردوں کے برابر جگہ دی۔ آپﷺ کے واقعات زندگی میں ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ مستورات کے ساتھ ان کا طریقہ اور رویہ بہت ہمدردی کا تھا اور ان کی خاطرداری کا خیال رکھتے تھے۔
رسول خدا ایک مرتبہ بازار تشریف لے جارہے تھے، آپﷺ کے پاس آٹھ درہم تھے۔ درہم ایک قدیم رومی سکہ تھا جو اس وقت عرب میں چلتا تھا۔ آپﷺ نے ایک عورت کو راستے میں روتے دیکھا تو دریافت فرمای ”تم کیوں رو رہی ہو؟“ وہ بولی گھر والوں نے درہم دے کر کچھ خریدنے بھیجا تھا، وہ مجھ سے گم ہوگئے۔ آپﷺ نے دو درہم اس کو دے دیئے اور چھ درہم لے کر بازار تشریف لے گئے۔ آپﷺ نے ایک قمیص خریدی اور واپس تشریف لارہے تھے کہ راستے میں آپﷺ نے ایک بوڑھے مسلمان کو دیکھا جو ننگا تھا اور کہہ رہا تھا مجھے جو کپڑے پہنائے گا خدا اسے جنت کے کپڑے پہنائے گا۔ آنحضرتﷺ نے اپنی قمیص اسے پہنادی۔ پھر بازار تشریف لے گئے دو درہم میں پھر ایک قمیص خریدی اُسے پہنا اور واپس تشریف لائے، واپسی پر وہ عورت پھر روتی ہوئی ملی۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا اب کیا بات ہے؟ وہ بولی یارسول اللہ گھر سے نکلے ہوئے دیر ہوگئی ہے، ڈر لگتا ہے کہ کہیں گھر والے سزا نہ دیں۔ آپﷺ نے فرمایا ”گھر واپس جاﺅ“۔ وہ واپس چلی تو آپﷺ بھی اس کے ہمراہ ہولئے، راستے میں بعض انصار کے گھر آئے۔ انصار مدینہ کے رہنے والے ان مسلمانوں کو کہتے ہیں، جنہوں نے مکہ سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کو بھائی بنالیا تھا۔ انصار کے معنی مددگار کے ہیں۔ بوڑھی عورت کے مالک کے گھر پہنچے مرد باہر گئے ہوئے تھے۔ عورتیں گھر پر موجود تھیں۔ آپﷺ نے ان سے کہا ”اے بیبیو! تم پر خدا کی سلامتی اور رحمت ہو“۔
”تمہاری اس باندی کو دیر ہوگئی ہے۔ یہ ڈر رہی ہے کہ سزا نہ دی جائے۔ اس کی غلطی مجھے بخش دو“۔ وہ کہنے لگیں یارسول اللہ! یہ آپﷺ کے ساتھ آئی ہے ہم اسے آزاد کرتے ہیں۔ واپس ہوتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا۔ ”یہ آٹھ درہم کتنے برکت والے تھے۔ ان کی وجہ سے ایک ڈرنے والے کو امن ملا۔ دو آدمیوں کا تن ڈھانکا گیا۔ ایک غلام عورت آزاد ہوئی“۔
آنحضرتﷺ کے دربار میں چونکہ ہر وقت مردوں کا ہجوم رہتا تھا، عورتوں کو وعظ اور نصیحت سننے اور مسائل دریافت کرنے کا موقع نہ ملتا تھا۔ مستورات نے درخواست کی کہ ہمارے لئے ایک دن خاص مقرر کیا جائے۔ آنحضرتﷺ نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور ا ن کے لئے دربار کا ایک خاص دن مقرر کردیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کو بُرا بھلا نہیں کہا اور نہ اپنی ذات مبارک کی بابت کسی سے بدلا لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسانوں پر ہی مہربانی نہیں فرماتے تھے، بلکہ پرندوں اور حیوانوں پر بھی اسی قدر مہربان تھے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close