Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > اسلامی
خطبہ حجتہ...
مکہ مکرمہ
اسم محمد کا...
فرعون کی ممی
کتنے مہربان...
قرآن کریم کا...
عورتوں پر...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   پچھلا
 

کتنے مہربان نبی صلی اللہ علیہ وسلم

 
   
 
یہ محبت اور شفقت مسلمان بچوں تک محدود نہ تھی، بلکہ مشرکین کے بچوں کو بھی اس ہی طرح پیار کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک غزوہ میں چند بچے لڑنے والوں کی جھپٹ میں آکر مارے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ بہت آزردہ ہوئے۔ ایک صاحب نے کہا یارسول اللہ! وہ مشرکین کے بچے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے بچے بھی تم سے بہتر ہیں۔ خبردار بچوں کو قتل نہ کرو۔ ہر جان خدائی فطرت پر پیدا ہوتی ہے۔حضرت جابر بن سمیرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہوکر وہ اپنے دولت خانہ تشریف لے گئے۔ میں آپ کے ساتھ ہولیا۔ راستہ میں اور بچے ملے، آپ نے سب کے رُخساروں پر دست شفقت پھیرا اور میرے رُخساروں پر بھی پھیرا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کی ٹھنڈک اور خوشبو ایسی پائی گویا آپ کا ہاتھ جیسے عطر بیچنے والے عطار کے صندوقچہ سے نکلا ہے۔ایک دفعہ ایک یتیم بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے کپڑے پھٹے پرانے تھے اور عرض کی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ کے مرنے کے بعد ایک شخص جس کا نام ابوجہل ہے نے میرے مال پر قبضہ کرلیا ہے اور مجھے کچھ بھی نہیں دیا ہے۔ اب میں بدن ڈھانپنے کے لئے کپڑوں کا محتاج ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یتیم بچے کی بات سُن کر اسی وقت کھڑے ہوئے اور بچے کا ہاتھ پکڑ کر سیدھے ابوجہل کے گھر تشریف لے گئے اور اس سے بڑے رعب اور دبدبے سے فرمایا بچے کا حق اس کو دے دو۔ ابوجہل پر اتنا رعب طاری ہوا کہ وہ کانپ گیا اور اسی وقت یتیم بچے کا مال لاکر دے دیا۔ہجرت کے موقع پر جب مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا داخلہ ہوا انصار کی چھوٹی چھوٹی لڑکیاں خوشی سے دروازوں سے نکل کر گیت گارہی تھیں۔ جب آپ کا ادھر گزر ہوا تو فرمایا کہ اے لڑکیوں کیا تم مجھ سے پیار کرتی ہو، سب نے کہا جی ہاں یارسول اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی تم کو پیار کرتا ہوں۔ رسول اللہ یتیموں کے سرپرست تھے اور ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ خود بھی ان کی مدد کرتے، پیار کرتے اور دوسروں سے بھی اس کی تاکید فرماتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ اللہ اس گھر کو بہت پسند کرتا ہے جس میں یتیم بچے کی عزت کی جاتی ہے، جو شخص کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرے گا۔ اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا جب کوئی موسم کا نیا میوہ حضرت اقدس میں پیش کرتا تو حاضرین میں جو سب سے کم عمر بچہ ہوتا اس کو عنایت فرماتے، بچوں کو چومتے اور پیار کرتے۔ ایک دفعہ بچوں کو پیار کررہے تھے، ایک یہودی نے جو موجود تھا کہا تم بچوں کو پیار کرتے ہو، میرے دس بچے ہیں اور میں نے اب تک کسی کو پیار نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دل سے محبت چھین لے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ان والدین کی تعریف فرماتے جو اپنی اولاد بالخصوص بچیوں کے لئے اور انہیں آرام پہنچانے کی خواہش کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچیوں کی تعلیم و تربیت کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے، ایسے والدین کو جنت میں داخلہ کی بشارت سناتے تھے۔ایک دفعہ ایک غریب عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، دو چھوٹی چھوٹی لڑکیاں بھی ساتھ تھیں۔ اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کھانے کے لئے ایک کھجور تھی، وہیں اس غریب عورت کو دے دی، اس نے کھجور کے دو ٹکڑے کئے اور ان دونوں لڑکیوں میں تقسیم کردیئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ قصہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خدا جس کو اولاد کی محبت دے اور وہ ان کا حق بجا لائے تو وہ دوزخ سے محفوظ رہے گا۔ان کپڑوں میں سے ایک اچھا جوڑا اس بچے کو پہنایا اور اسے ساتھ لے کر عید کی نماز پڑھنے تشریف لے گئے۔ دیکھا آپ نے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بن باپ کے بچے کی شفقت ہی نہیں بلکہ ماں اور بہن کا پیار، کپڑے اور خوشی سب کچھ ہی دلادی۔ایک دفعہ عید کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جارہے تھے۔ راستے میں کچھ بچے کھیلتے ہوئے نظر آئے۔ مگر ایک بچہ اُداس سب سے الگ تھلگ بیٹھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب جاکر پوچھا۔ ”کیا بات ہے رنجیدہ کیوں ہو؟“ اس نے جواب دیا میرا باپ مرچکا ہے۔ ماں نے دوسری شادی کرلی ہے۔ کوئی نہیں جو مجھے دیکھے بھالے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تسلی دیتے ہوئے) فرمایا۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا باپ ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا تمہاری ماں ہوں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا تمہاری بہن۔ عائشہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو ساتھ لیا اور واپس گھر آئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ ”تمہیں بیٹے کی آرزو تھی یہ تمہار بیٹا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تمہیں بھائی کی آرزو تھی، یہ تمہارا بھائی ہے اور فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ  کے کپڑے لاﺅ“۔رسول اللہ بچوں پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ اُن کا معمول تھا کہ سفر پر جاتے تو راہ میں جو بچے ملتے اُن سے اُلفت بھرا سلوک فرماتے اور یہی تعلیم دوسروں کو دیتے۔ ان میں سے کئی بچوں کو اپنے ساتھ سواری پر آگے پیچھے بٹھاتے تھے، راستہ میں جو بچے مل جاتے ان کو مسکراتے ہوئے نہایت محبت سے سلام کرتے اور پیار بھری باتیں کرتے، ایک ایک کو گود میں اُٹھاتے اور کھانے کی چیزیں دیتے۔ آپ بچوں کو چومنا، ان سے لاڈ پیار کرنا ان کا حق سمجھتے تھے۔ ماں اور بچے کے واقعات سے آپ پر گہرا اثر ہوتا تھا۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی رحم دل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اتنی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، اس کی ایک بڑی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحم دلی تھی۔
 
Next   پچھلا

Bookmark and Share
 
 
Close