Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

طوطا کہانی

 
   
 
”ٹیں ٹیں ٹیں.... ساتھیو! یقیناً آپ یہ آوازیں اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہوں گے، ٹیں ٹیں کی یہ آواز آپ کے دوست طوطے صاحب کی ہوتی ہے، شاید آپ کے گھر میں بھی یہ خوبصورت پرندہ ہو؟ اور اگر ہوگا تو آپ اس سے خوب مزے مزے کی باتیں بھی کرتے ہوں گے اور یہ آپ کی نقل اُتارنے کی کوشش بھی کرتا ہوگا؟ کیونکہ نقل اُتارنے میں تو ہمارے مٹھو میاں ماہر ہیں۔ ساتھیو! اللہ تعالیٰ نے طوطے کو یہ اضافی صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ ہم انسانوں کی طرح بول بھی سکتا ہے لیکن یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہر طوطا نہیں بولتا، طوطوں کی کچھ مخصوص اقسام ہیں جنہیں سکھایا جائے تو وہ انسانوں کی طرح آوازیں نکال سکتی ہیں۔ آئیے آج ہم آپ کو اس خوبصورت پرندے طوطے کے بارے میں دلچسپ اور معلوماتی باتیں بتاتے ہیں۔
پرندوں کے گروہ میں طوطوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، طوطے طرح طرح کے خوبصورت اور دلکش رنگوں میں پائے جاتے ہیں، نقل اُتارنے میں طوطے بہت مہارت رکھتے ہیں، انسانوں کی طرح بولنے کے علاوہ بعض دوسری آوازیں بھی عمدگی سے نکال لیتے ہیں اور ہاں! طوطے سیٹی بھی بجا لیتے ہیں اور کچھ طوطوں کی آواز اتنی اچھی ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے سریلی آواز میں گانا گا رہے ہوں، طوطے دنیا بھر میں تقریباً ہر جگہ پائے جاتے ہیں، جنگلات میں، میدانی علاقوں میں اور پہاڑوں پر بھی طوطے پائے جاتے ہیں، دنیا بھر میں طوطوں کی تین سو سے زائد اقسام موجود ہیں، پاکستان میں بھی کئی اقسام کے طوطے ہوتے ہیں جن میں سے زیادہ تر طوطے خشک علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں، طوطوں کی زیادہ تر اقسام گرم آب و ہوا والے علاقوں میںپائی جاتی ہیں لیکن ایشیا اور یورپ کے بعض انتہائی ٹھنڈے علاقوں میں بھی ان کی موجودگی کے ثبوت ملے ہیں، طوطوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ گرم علاقوں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی جگہ پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں لیکن سرد مقامات پر ان کی بہت زیادہ حفاظت کی جاتی ہے۔
پرندوں کے گروہوں میں طوطوں کو پہچان لینا بہت آسان ہوتا ہے، سب سے پہلے تو ان کی غیر معمولی، مضبوط اور تیز چونچ ہوتی ہے، دوسرے ان کی کھوپڑی کی بناوٹ دوسرے پرندوں سے بہت مختلف ہوتی ہے، ان کی ٹیں ٹیں والی تیز اور چیختی ہوئی آواز دوسرے پرندوں سے بالکل الگ ہوتی ہے، جسمانی ساخت اور بناوٹ کے لحاظ سے طوطے کی چونچ شروع میں چوڑائی میں پھیلی ہوئی اور آخر میں اندر کی طرف تھوڑی سی مڑی ہوئی ہوتی ہے، طوطے اپنی چونچ کی مدد سے بہت سخت چھلکے والے گری دار میوے بھی آرام سے توڑ سکتے ہیں، طوطوں کی تقریباً تمام اقسام اپنی چونچ کو تیسرے پاﺅں کے طور پر بڑی مہارت سے استعمال کرتی ہیں، طوطے چھلانگ لگا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہایت آرام سے چلے جاتے ہیں اور چھلانگ لگا کر دوسری جگہ اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے پاﺅں کے علاوہ چونچ کا بھی خوب استعمال کرتے ہیں، طوطے کے جسم کے بارے میں تو آپ کچھ نہ کچھ جانتے ہی ہوں گے، ان کے سر بڑے، گردن موٹی اور چھوٹی اور زبان بھی موٹی ہوتی ہے، چونچ کی نوک اور زبان کی مدد سے طوطے اپنی خوراک یعنی غذا وغیرہ کو پکڑ لیتے ہیں اور اس طرح پھولوں کا رس پینے میں بھی انہیں مدد ملتی ہے۔
طوطوں کے دو پاﺅں بھی ہوتے ہیں جنہیں یہ اپنے ہاتھوں کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں، طوطوں کے پنجوں کی گرفت بھی بہت مضبوط ہوتی ہے، ناک کی جگہ طوطے کی چونچ کے پاس دو چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں جن سے وہ سانس لیتے ہیں، طوطے بنیادی طور پر سبزی خور ہوتے ہیں، پھل، گری دار میوے، گھاس، بیج، پھول اور دوسرے پودے نہایت شوق سے کھاتے ہیں، اکثر طوطوں کو ہری مرچ بہت زیادہ پسند ہوتی ہے، کئی قسموں کے طوطے کیڑے مکوڑے اور ان کے انڈے اور لاروے تک کھا جاتے ہیں، طوطے مختلف سائز میں پائے جاتے ہیں، چھوٹے سے چھوٹا طوطا تقریباً تین انچ کا ہوتا ہے جبکہ بڑے سے بڑے طوطے جنہیں کلغی دار اور امریکی طوطے کہا جاتا ہے، تین فٹ یا ایک میٹر طویل ہوتے ہیں، طوطے کے بال اور پر خاصے سخت ہوتے ہیں، پروں کا زیادہ تر حصہ سبز رنگ پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن کئی اقسام کے طوطوں کے پر، بڑے شوخ رنگوں میں ہوتے ہیں اور ان کے جسم پر خوبصورت نقش و نگار بھی ہوتے ہیں، بعض طوطے سیاہ، سفید اور سرمئی بھی ہوتے ہیں لیکن ان طوطوں کی دم سرخ رنگ کی بھی ہوسکتی ہے۔
نیوزی لینڈ کے طوطوں کے علاوہ طوطوں کی تمام اقسام کے پر چھوٹے ہوتے ہیں، تقریباً آٹھ نو ماہ میں طوطوں کے پرانے پر جھڑ جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے پر نکل آتے ہیں، نیوزی لینڈ کے طوطے اپنے بڑے پروں کی وجہ سے نہایت عمدہ اور دیر تک پرواز کرسکتے ہیں، طوطے ہمیشہ جوڑے یا جھنڈ کی صورت میں پرواز کرنا پسند کرتے ہیں، ایسے موقعوں پر وہ نہایت تیز آواز میں چیختے ہیں لیکن جب وہ کھا پی رہے ہوں یا آرام کے موڈ میں ہوں تو خاموشی اختیار کرلیتے ہیں، خاص طور سے سبز رنگ کے طوطے تو بالکل خاموش ہوجاتے ہیں، تمام اقسام کے طوطے (انسانوں کے برخلاف) مل جل کر رہنا پسند کرتے ہیں، ایک درخت پر طوطوں کے کئی کئی خاندان آباد ہوتے ہیں، طوطوں کی عادت ہوتی ہے کہ یہ مل جل کر کھاتے پیتے ہیں، ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں اور اپنی خوراک کی تلاش میں دور تک نکل جاتے ہیں۔ ساتھیو! دیکھا آپ نے طوطے اپنے ساتھیوں سے کتنی محبت کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں؟
طوطے عام طور پر اپنے انڈے، درختوں کے کھوکھلے تنوں یا چٹانوں میں موجود درازوں میں دیتے ہیں، طوطوں کی تمام اقسام گول اور سفید انڈے دیتی ہیں، بڑی قسم کے طوطے دو یا تین انڈے دیتے ہیں جبکہ چھوٹے طوطے بارہ تیرہ انڈے ایک ساتھ دیتے ہیں، جنوبی امریکہ کے طوطے اپنے انڈے خالی جگہوں پر نہیں دیتے بلکہ وہ گھاس پھوس سے گھونسلے بناتے ہیں اور اس میں انڈے دیتے ہیں، طوطے کے بچے جب پیدا ہوتے ہیں تو وہ دیکھ نہیں سکتے اور اس وقت نہ ہی ان کے پر ہوتے ہیں۔ طوطوں کے آٹھ ذیلی خاندان ہیں، ان خاندانوں میں تین سو سے زائد اقسام کے طوطے موجود ہیں، آٹھ ذیلی خاندانوں میں سے ایک ”الو“ سے بہت ملتی جلتی ہوتی ہے اور اس طرح یہ طوطا کم اور اُلو زیادہ نظر آتا ہے، لیکن خاص بات یہ ہے کہ یہ طوطا اُڑ نہیں سکتا۔ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے طوطے یوں تو بہت خوبصورت ہوتے ہیں لیکن ان کی حرکتیں بہت خطرناک ہوتی ہیں، یہ بہت ہی خونخوار قسم کے طوطے ہوتے ہیں، ان کی چونچ بہت تیز اور مضبوط ہوتی ہے اور اپنی چونچ سے یہ بھیڑ تک کو ہلاک کرسکتے ہیں، اپنی چونچ کی مدد سے یہ بھیڑ کے پچھلے حصے پر حملہ کرکے چیر پھاڑ مچاتے ہیں اور بھیڑ کے گردے کی چربی کھا جاتے ہیں، اس قسم کے طوطوں کی عادتیں دوسرے طوطوں سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔
لوری طوطے: آسٹریلین طوطے بھی کہلاتے ہیں، ان طوطوں کی چونچ کا رنگ سرخ یا نارنجی ہوسکتا ہے، اس خاندان کے طوطوں کی تقریباً ساٹھ اقسام پائی جاتی ہیں، یہ طوطے بہت خوبصورت شوخ رنگوں میں ہوتے ہیں، بیشتر طوطوں کے پروں پر نیلے اور سبز رنگ کے ڈیزائن بنے ہوتے ہیں، ان طوطوں کی چونچ دوسرے طوطوں کے مقابلے میں ذرا پتلی ہوتی ہے، یہ طوطے پھولوں کا رس بہت شوق سے پیتے ہیں، رس پینے کے لئے ان کی پتلی چونچ بہت کام آتی ہے۔
بونا طوطا: یہ طوطوں کے جس خاندان سے تعلق رکھتا ہے، اس خاندان میں چھ اقسام کے طوطے شامل ہیں، بونا طوطا اپنے نام کی طرح بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے، ان میں بعض طوطے تو انسانی انگوٹھے سے تھوڑے ہی بڑے ہوتے ہیں، ان کی دم بھی دوسرے طوطوں سے مختلف، چھوٹی سی اور گھومی ہوئی ہوتی ہے، درختوں کی شاخوں پر اِدھر اُدھر چھلانگیں لگانے میں ان کی یہ دم بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔
کلغی دار طوطے، طوطوں کے ایک اور خاندان کا نام ہے، یہ طوطا خاصا بڑا ہوتا ہے، اس کا سر بھی بڑا ہوتا ہے، کلغی پنکھے کی طرح پھیلی ہوئی اور سر کے عین درمیان میں ہوتی ہے، ان کی سترہ اقسام ہیں، کلغی دار طوطوں کا رنگ سفید بھی ہوتا ہے جن پر گلابی یا زرد کلغی ہوتی ہے، بعض کلغی دار طوطے پورے سیاہ بھی ہوتے ہیں۔ لٹکنے والے طوطے کا نام ان کی دلچسپ عادتوں کی وجہ سے رکھا گیا ہے، اس خاندان کے طوطے جب سوتے ہیں تو درختوں کی شاخوں سے اپنا سر نیچے کی طرف لٹکا لیتے ہیں، یہ طوطے بہت چھوٹے یعنی صرف چار سے چھ انچ سائز تک کے ہوتے ہیں، ان طوطوں کی غذا میں پھولوں کا رس شامل ہے، اُلٹا لٹکنے میں یہ طوطے اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ کبھی بھی نیچے نہیں گرتے۔
اصلی طوطے:یہ طوطوں کے آٹھویں خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طوطوں کا یہ سب سے بڑا خاندان ہے، اس خاندان میں دو سو سے زائد اقسام کے طوطے موجود ہیں، ان قسموں میں زیادہ تر طوطے کوے کے برابر کے ہوتے ہیں، سبز طوطے ان میں عام ہیں جو ہم کو اکثر و بیشتر نظر آتے ہیں، یہی سبز طوطے گھروں میں بھی پالے جاتے ہیں، ان میں کچھ طوطے سرخ یا نیلے رنگ کے بھی ہوتے ہیں، یہ روایتی طوطے بھی بہت خوبصورت ہیں۔ طوطوں میں سب سے بڑے امریکی طوطے ہوتے ہیں، ان کی دم بھی خاصی بڑی ہوتی ہے، یہ زرد، سبز، نیلے اور سرخ رنگ پر مشتمل ہوتے ہیں، دم دراز طوطا بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے، یہ طوطے چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان کی دم لمبی ہوتی ہے، آسٹریلیا کے دم دراز طوطے بہت مشہور ہیں، درختوں پر رہنے کے بجائے یہ زمین پر گھونسلہ بنا کر رہنے میں زیادہ خوش رہتے ہیں، بجریگر بھی اس ہی خاندان کی ایک قسم ہے جو ایک مشہور طوطا ہے جس کو گھروں میں بڑے شوق سے پالا جاتا ہے، افریقن سرمئی طوطا بھی اسی خاندان کا باسی ہے، یہ طوطا باتیں کرنے کی خداداد صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہے، یہ طوطا انسانی آواز کی بہت اچھی نقل اُتارتا ہے۔ برطانیہ میں ایک خاتون کے پاس ایسا پالتو طوطا ہے جس نے آٹھ سو سے زائد الفاظ یاد کررکھے ہیں، اس افریقن سرمئی طوطے کو لندن میں باتیں کرنے والے بہترین طوطے کا ایوارڈ بھی ملا ہے۔
افریقن سرمئی طوطا چند گھنٹوں میں ہی الفاظ سیکھ جاتا ہے اور مختلف تاثرات مثلاً بھوک، خوف اور بیزاری وغیرہ کا اظہار بخوبی کرسکتا ہے، چمگادڑ طوطے کا نام بھی ان کی حرکتوں کی وجہ سے رکھا گیا ہے، یہ طوطا بنیادی طور پر فلپائن سے تعلق رکھتا ہے، یہ طوطا ماہر کرتب باز ہوتا ہے، چمگادڑ کی طرح اُلٹا لٹک جانا اور لٹکے لٹکے سوجانا اس کی عادت ہے، طوطے انسانوں سے ہمیشہ ہی مانوس رہے ہیں، انسان طوطوں کا شکار بہت شوق سے کرتے ہیں لیکن انہیں کھانے کے لئے نہیں بلکہ پالنے کے لئے، پرندوں کے شوقین افراد انہیں مہنگے داموں خریدتے ہیں، پالنے کے لئے ہمیشہ طوطے کا بچہ لینا چاہئے، بچپن ہی سے طوطے کو سدھانے، آوازوں کی نقل اُتارنے اور انسانوں کی طرح باتیں کرنے کی تربیت دینے میں سہولت رہتی ہے، طوطے اگر پہاڑوں اور جنگلوں میں آزاد پھریں تو ان کی انسانوں کی طرح باتیں کرنے کی صلاحیت پروان نہیں چڑھتی، طوطے انسانوں کے ساتھ رہ کر ہی آواز کی نقل اُتار سکتے ہیں، اگر آپ طوطے کو بولنا سکھانا چاہتے ہیں تو الفاظ کو کئی دفعہ دہرائیں، طوطا خودبخود وہ الفاظ سیکھ جائے گا لیکن اس دوران جلد بازی نہ کریں، اس طرح طوطا ناراض ہوجائے گا کچھ بھی نہیں سیکھے گا۔ بہرحال طوطا اللہ تعالیٰ کی ایک خوبصورت مخلوق ہے جو ہماری دنیا کو مزید حسین بناتی ہے، ہمیں چاہئے کہ اس پرندے کی حفاظت، محبت اور اس سے دوستی کریں۔٭
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close