Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

شارک

 
   
 
کرہ ارض پر کروڑوں قسم کے جانور پائے جاتے ہیں‘ سائنسی ترقی کی بدولت اب انسان ان جانوروں کی اقسام پر تحقیق کررہا ہے اور جوں جوں انسانی تحقیق کا دائرہ پھیل رہا ہے، ایسے ایسے جاندار سامنے آرہے ہیں، جن کے بارے میں انسان پہلے کچھ نہیں جانتا تھا، تاہم کچھ جاندار ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں انسان صدیوں سے جانتا ہے، اس کی وجہ ان جانداروں کی کچھ خصوصیات ہیں جو انہیں دیگر جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں مثلاً ان کا ڈر، خوف، وحشت، خوبصورتی اور اس طرح دیگر منفرد خصوصیات۔
انہی جانداروں میں سے ایک آبی مخلوق شارک بھی ہے جس کا غصہ، خطرناک روپ اور جسامت ہمیشہ سے ہی انسان کے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے، شارک دنیا میں پائی جانے والی مچھلیوں میں سب سے بڑی مچھلی ہے جو تقریباً دنیا کے تمام سمندروں میں پائی جاتی ہے، لیکن عام طور پر اس کو گرم پانیوںمیں دیکھا گیا ہے، اب تک شارک مچھلی کی تین سو ساٹھ اقسام دریافت ہوچکی ہیں جن میں سے صرف چند ایک ہی خطرناک ہیں لیکن دیکھنے میں ان کی تمام اقسام ہی ایک جیسی معلوم ہوتی ہیں اور ان کی ہیبت انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔
شارک مچھلی کی جسامت کا انحصار ان کی اقسام پر ہوتا ہے، وہیل شارک تقریباً 60 فٹ لمبی ہوتی ہے جبکہ باکسنگ شارک کی لمبائی تقریباً 45 فٹ تک ہوتی ہے، دیگر تمام اقسام کی شارک جسامت میں ان دونوں سے چھوٹی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں طویل جثہ شارک خطرناک نہیں ہوتیں اور نہ یہ گوشت خور ہوتی ہیں۔
شارک کا وزن بھی ان کی اقسام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، ایک بڑی شارک کا وزن سات ٹن ہوسکتا ہے، مختلف اقسام کی شارک کی خوراک بھی مختلف ہوتی ہے، ان میں سے بعض صرف آبی پودے کھاتی ہیں جبکہ بعض دوسرے آبی جانوروں کو بھی اپنی خوراک بنالیتی ہیں، یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ بہت کم اقسام کی شارک ایسی ہوتی ہیں جو انسانوں کو اپنی خوراک بناتی ہیں، ان میں ٹائیگر شارک، گریٹ وائٹ شارک، ٹپ شارک اور مارل شارک شامل ہیں۔
شارک کی شکلیں بھی مختلف ہوتی ہیں، کچھ دیکھنے میں سانپ کی طرح معلوم ہوتی ہیں تو کچھ کا سر ان کی جسامت کے مقابلے میں بڑا ہوتا ہے، کچھ کی ناک بہت لمبی اور نوکیلی ہوتی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ شارک کا منہ ان کی رفتار بڑھانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے، عام طور پر شارک کی تیرنے کی رفتار 4 سے 8 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے، لیکن مارل شارک 64 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی تیر سکتی ہے۔
ایک شارک کے منہ میں ہزاروں دانت ہوتے ہیں جو مختلف قطاروں میں جبڑے سے منسلک ہوتے ہیں، یہ تعداد میں بہت زیادہ اور لمبے ہوتے ہیں، اب تک شارک کے فوسلز میں سب سے زیادہ اس کے دانت ہی ملے ہیں جس میں سے چند تو 410 ملین سال پرانے ہیں،زیادہ دانتوں کے فوسلز ملنے کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ شارک جب کسی کوکاٹتی ہے تو اپنے دانتوں کو شکار کے جسم میں بہت سختی سے گھسادیتی ہے اور بعد میں اس میں سے بہت سے دانت الگ ہو کر شکار کے جسم میں ہی رہ جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے شارک اپنی زندگی میں تقریباً چار ہزار دانت اس طرح نکال دیتی ہے۔
شارک میں انسانوں کی طرح پانچ حسیں ہوتی ہیں مگر اس کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ آدھے کلو میٹر کے اندر خون کے ایک قطرے کی بھی بو سونگھ سکتی ہے، اس لیے زخمی جاندار بڑی آسانی سے شارک کا شکار بن جاتے ہیں، اس کی یہی حس اسے شکار کی تلاش میں مدد دیتی ہے، شارک میں چھٹی حس بھی ہوتی ہے جو اسے برقی رو دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔
مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شارک کا غصہ بہت تیز ہوتا ہے، غصے اور بھوک میں یہ کچھ بھی کرسکتی ہے، ایسی حالت میں اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ بھوکی شارک آسانی سے چھوٹی کشتی کے ٹکڑے ٹکڑے کرسکتی ہے، کچھ عرصے قبل غصے میں بپھری ایک شارک نے اٹلانٹک میں فائبر آپٹکس (انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والی مضبوط تار) کاٹ دی تھی جس سے ڈھائی لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔
آپ کو یہ بات سن کر حیرت ہوگی کہ انسان کینسر جیسے موذی مرض سے بچاﺅ کے لیے شارک کے جسم پر تحقیق کررہا ہے، کیوں کہ شارک ایک ایسی آبی مخلوق ہے جسے کینسر نہیں ہوتا، اس لیے اسے کینسر فائٹر بھی کہا جاتا ہے، اس کی دو وجوہات سامنے آئی ہیں، ایک تو اس کا مدافعتی نظام بہت مضبوط ہوتا ہے، اس میں موجود اینٹی باڈی وائرس بہت سے بیکٹیریا کو کمپلز کو ختم کردیتا ہے، دوسری وجہ اس کا ڈھانچا ہے، ماہرین کے کہنا ہے کہ شارک کا ڈھانچا ایسے کاٹیلجز پر مشتمل ہے جو خون کی ان نالیوں کو بڑھنے سے روک دیتا ہے جن پر وائرس کا حملہ ہوتا ہے، اگر ماہرین شارک کے اس مدافعتی نظام کو اچھی طرح سمجھ جائیں تو پھر ایسا ہی مدافعتی نظام انسان میں پیدا کرنے کی راہ کھل سکتی ہے۔
کیا انسان ایسا کوئی نظام وضع کرپائے گا؟۔
اس بات کا تعین تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اپنے غصے، خطرناک جسامت اور شکار کرنے کے دردناک انداز کے باوجود شارک سمندر کا حسن ہے، سمندر مخلوقات پر تحقیق کرنے والوں کو کہنا ہے کہ اگر شارک مچھلیوں کو ختم کردیا جائے تو قدرت کا توازن بگڑ جائے گا، جس کا اثر نہ صرف آبی زندگی پر ہوگا بلکہ خشکی پر رہنے والی مخلوق بھی اس سے متاثر ہوگی۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close