Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

لو سے بچنے کے طریقے

 
   
 
موسم گرماکا آغاز ہوتے ہی ہواﺅں میں بھی گرم تپش محسوس ہونے لگتی ہے اور ان گرم ہواﺅں کو عرف عام میں ہم ”لو“ کہتے ہیں‘ اپنے روزہ مرہ کے معمولات کے لیے گھر سے نکلنا ایک بڑی بے بسی سی بن جاتی ہے، بے بسی اس لیے کہ نہ تو گھر میں رہا جاسکتا ہے اور نہ ہی گرم موسم اور لو کی گرم مار برداشت ہوتی ہے۔
لو کے تھپیڑے اچھے بھلے انسان کے ہوش و حواس چھین لیتے ہیں، سوال یہ ہوتا ہے کہ گرمی کے اس شدید موسم میں معمولات کے ضروری امور کیسے انجام دیے جائیں اور لو کے تھپیڑوں سے محفوظ رہتے ہوئے ہوش و حواس کیسے قائم رکھے جائیں۔
سب سے پہلے تو سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ لو ہے کیا بلا۔ لو ہماری عام بول چال میں شدید تپتی اور جھلسا دینے والی ہوا کو کہتے ہیں، یہ گرم ہوا کے تھپیڑے انسانی صحت اور تندرستی کے قاتل ہیں، کسی شخص کو لو لگی ہے یا نہیں دوسرے لفظوں میں اسے لو نے اپنا نشانہ بنایا ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس کی جسمانی کیفیت کو دیکھ کر بڑی آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔
عام طور پر لو کی لپیٹ میں آجانے سے جسمانی درجہ حرارت بھی رفتہ رفتہ بڑھنے لگتا ہے جو 101تک پہنچ سکتا ہے، انسانی جسم کے لیے اتنی حرارت اس کی قوت برداشت سے بہت زیادہ ہوجاتی ہے، جسمانی درجہ حرارت سے دوسرے اثرات بھی نمایاں ہونے لگتے ہیں، متاثرہ شخص کو چکر آتے محسوس ہونے لگتے ہیں، سانس لینے میں مشکل پیش آنے لگتی ہے، نبض کی رفتار میں اضافہ ہوجاتا ہے، سردرد، بدن درد اور جسمانی کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے، جی متلانے لگتا ہے اور کبھی کبھی الٹیاں بھی ہونے لگتی ہیں۔
جسم میں پسینہ نہیں آتا جلد خشک ہوجاتی ہے اکثر متاثرہ شخص بے ہوش بھی ہوجاتا ہے۔
لو لگ جانے پر سب سے پہلے ہمیں متاثرہ شخص کو ٹھنڈے اور ہوا دار مقام یا کمرے میں لٹائیں، جہاں کولر، پنکھا، خس کا پردہ یا پھر جدید صورتحال میں اے سی کی سہولت موجود ہو، پیشانی پر ٹھنڈے پانی یا برف کی پٹی رکھیں، اگر متاثرہ شخص کو تیز بخار ہو تو اس کے پورے جسم پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھیں، اگر مریض ہوش میں ہو تو اسے ٹھنڈے پانی سے غسل کرادیں۔
مریض اگر بے ہوش نہ ہو تو اسے کچے آم (کیری) کا پنا بنا کر پلائیں، لو کے اثر میں کیری کا اپنا ایک مفید اور تیز بہدف گھریلو علاج ہے، ساتھ ہی مریض کو ٹھنڈا پانی بھی پلایا جائے، اس کے ہاتھ پیروں پر کچی پیاز کا رس نکال کر لیپ کردینے سے بھی لو کے اثرات جلد ختم ہوجاتے ہیں، یہ تو ہوئی لو کے متاثرہ شخص کی ابتدائی طبی دیکھ بھال، اس کے بعد جتنی جلد ممکن ہوسکے اسے قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں یا ڈاکٹر کو گھر پر ہی بلوالیں جس میں آپ کو اپنی سہولت ہو۔
کسی بھی بیماری کی صورت میں بہترین اور ضروری بات یہ ہونی چاہیے کہ ہم بیماری کا فوری علاج پر توجہ دینے کے بجائے اس بات کی ہر ممکن کوشش کریں کہ کسی بھی بیماری کے حملے سے جسم محفوظ رہے، یعنی ہماری احتیاطی تدابیر قبل از بیماری ہونا چاہئیں ہم لو کا شکار ہونے سے ہی محفوظ رہیں اور یہی سب سے بہتر طریقہ ہے، اس طرح ہم قبل از وقت لو سے بچنے کی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے لو کے اثرات بد اور شدت سے بروقت محفوظ رہ سکتے ہیں، جہاں تک ممکن ہو غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں، سڑکوں اور کھلے میدانوں میں آزاد آمد و رفت کا سلسلہ محدود سے محدود تر رکھنے کی کوشش کریں، بہتر تو یہی ہوگا کہ آپ بارہ بجے دوپہر سے کم از کم تین یا چار بجے تک گھر میں ہی رہنے کی کوشش کریں اور جانا ہی پڑجائے تو چھتری ساتھ رکھیں اگر آپ سائیکل یا موٹر سائیکل پر گھر سے باہر نکل رہے ہیں تو اپنے سر کو موٹے کپڑے سے اس طرح لپیٹ لیں کہ وہ لو کے گرم جھونکوں اور تھپیڑوں سے محفوظ رہے، سر کے ساتھ ساتھ اپنے کانوں کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے، گھر میں موجود ہوں تو اپنے گھر کی کھڑکی اور دروازے دوپہر کے وقت بند رکھیں یا ان پر گہرے رنگ کے پردے لٹکادیں۔
موسم گرم میں جب آپ کے لیے گھر سے نکلنا ضروری ہوجائے تو آنکھوں پر سن گلاسز یعنی دھوپ کا چشمہ بطور حفاظت ضرور استعمال کریں، یہ دھوپ کی شدت سے ہی نہیں آنکھیں کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگا جو لوگ ائیر کنڈیشنڈ یا روم کولر کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں انہیںاس ٹھنڈے ماحول سے باہر قطعی نہ نکلنا چاہیے، کیوں کہ اس سردی اور گرمی کی وجہ سے جسمانی حرارت بری طرح متاثر ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
گرمی کے دنوں میں اپنا پیٹ خالی ہرگز نہیں رکھنا چاہیے، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ آپ بھوکے بالکل نہیں رہیں، جب بھی گھر سے باہر نکلنا ضروری ہو تو اچھی طرح کھاپی کر ہی باہر نکلیں، خالی پیٹ گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں لو لگنے کا خطرہ کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح گرمی کے دنوں میں ٹھنڈا پانی بھی آب حیات سے کم اہمیت نہیں رکھتا، موسم گرم میں گرمی کی وجہ سے چوں کہ پیسنہ آنا ایک فطری عمل ہوتا ہے اس لیے جسمانی پانی پسینے کی صورت میں کافی ضائع ہوجاتا ہے، اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹھنڈا پانی پیتے رہنا بہت ضروری ہے، اب اگر جسم میں اس کی ضرورت کے مطابق پانی ہی موجود نہیں ہوگا تو پسینہ کہاں سے اور کیسے خارج ہوگا، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر جسم سے پیسنے کا اخراج بند ہوجائے تو لو لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے پانی پیتے رہنا چاہیے، پانی کے علاوہ اس موسم میں شربت، گنے کا رس، لسی کے علاوہ اگر جیب اجازت دے تو پھلوں کا رس بھی پیتے رہنا چاہیے، جو کے بنائے ہوئے ستو موسم گرما میں ایک قدیم گھریلو مشروب بنانے کی چیز ہے، اسے بقدر ضرورت ٹھنڈے میٹھے پانی میں گھول کر پیتے رہنا بھی لو کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، گھریلو قدیم دوا کے طور پر کچے آم یعنی کیری کو ابال کر یا راکھ میں دبا کر نرم کرکے اس کا رس نکال لیں اور اس کا شربت جسے عرف عام میں پنا کہتے ہیں بنا کر پئیں تو یہ بھی لو کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔
پیاز جیب میں رکھنا آپ کے لیے لو سے محفوظ رہنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہے اپنے کھانے میں پیاز کے سلاد کا اہتمام کرنا اور اسے استعمال کرنا بھی لو کے اثرات سے بچاتا ہے، موسم گرم میں صبح، شام دونوں وقت غسل کرنا بھی آپ کی صحت کے لیے مفید عمل ہوگا، اس طرح جسمانی درجہ حرارت بڑھ کر آپ کے لیے خطرہ نہیں بن سکے گا، موسم گرما میں قدرت نے آپ کے لیے کھیرا، ککڑی، خربوزہ اور تربوز بڑی کثرت سے پیدا کیے ہیں، آپ قدرت کے ان تحائف کو استعمال کرکے بھی گرمی کی شدت اور لو لگنے کے خطرے سے خود کو بچاسکتے ہیں، پودینے کی پتیاں پانی میں ابال کر اور بڑی الائچی بھی ساتھ ملا کر استعمال کریں تو لو کے اثرات سے محفوظ رہنے کا قدیم گھریلو نسختہ ہے، آپ قبل از وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرکے لوکے نقصانات سے بڑی آسانی کے ساتھ محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اسی طرح املی بھی گھریلو ضرورت کی ایک اہم چیز ہے اور ہر گھر میں ہی یہ مل جاتی ہے، طبی ماہرین کا قول ہے کہ املی جتنی پرانی ہوگی اتنی ہی صحت کے لیے مفید بھی اگر گھر میں کسی کو لو کا اثر ہوجائے تو پکی املی کے گودے کو ہاتھ میں پیروں کے تلووں پر ملنے سے لو کا اثر جاتا رہتا ہے، اس کے علاوہ املی کو بھگو کر اس کا پانی پی لینے سے بھی لواثر نہیں کرتی یعنی اس طرح املی کا یہ پانی آپ کی صحت کے لیے ہیلمٹ کا کام کرتا ہے، پچاس گرام املی اور پچاس گرام گڑ دونوں کو نئے کورے مٹی کے برتن میں الگ، الگ پچاس، پچاس ملی لیٹر پانی میں بھگودیں اور صبح کو دونوں الگ الگ چھان کر نہار منہ یعنی خالی پیٹ پی لیں یہ عمل دس روز کریں ان شاءاللہ لو کے اثرات سے مکمل شفا حاصل ہوجائے گی، یہ بات ذہن میں رکھیں کہ املی کے ساتھ دودھ کا استعمال قطعی نہ ہونے پائے، اسی طرح لیموں کا عرق ایک گلاس میں نچوڑ کر حسب ذائقہ اسی میں پسی ہوئی مصری ملا کر پی لیں تو بھی لو کے اثر سے نجات مل جائے گی، اسی طرح شہتوت، انناس بھی لو کے اثر سے محفوظ رہنے کے لیے مفید ہیں، الغرض قدرت نے ہماری صحت ہماری زندگی کے لیے ہر موسم میں بے شمار اشیاءپیدا فرمائی ہیں، ان مخصوص موسم کی چیزوںکو بقدر ضرورت استعمال کرتے رہنے سے ہم موسم کی شدت اور اس کے برے اثرات سے بخوبی محفوظ رہ سکتے ہیں، ۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close