Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

پیاز کے عرق سے بجلی

 
   
 
پیاز کھانے کا اہم جزو ہے اور غذا میں ذائقہ پیدا کرتی ہے، اسے کاٹتے، چھیلتے وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو آجاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کے سیکڑوں طبی فوائد بھی ہیں اور اسے دوا سازی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اب اس کا ایک اور مصرف بھی تلاش کرلیا گیا ہے کہ اس سے آلودگی سے پاک (گرین ہاﺅس) توانائی فراہم کی جائے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکا کی پیاز پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنی گل اونین میں پیاز پر تجربات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ پیاز کے عرق سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ کیلی فورنیا کی ایک کمپنی اوکسنارڈ کو توقع ہے کہ پیاز کی طاقت سے حاصل کی جانے والی اس بجلی سے وہ سالانہ ساتھ لاکھ ڈالر کی بچت کرسکے گی، اس طرح سے گرین ہاﺅس گیس کے سالانہ اخراج میں بھی تیس ہزار ٹن کی کمی کی جاسکے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس گرین انرجی کی دریافت ایسے ہوئی جب مشکل پیش آئی کہ پیاز کے چھلکوں سے کیسے نجات حاصل کی جائے، اس پچیس سالہ پرانی کمپنی کے معاون مالک مسٹر اسٹیون گل نے کہا کہ جب ہم پیاز صاف کرتے اور چھیلتے ہیں تو اس کا پینتیس سے چالیس فیصد حصہ چھلکوں یا پرت میں ضائع ہوجاتا ہے، تب استعمال کے لائق پیاز ہاتھ آتی ہے، چھلکوں کے اس کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے اسے کچرا کنڈی لے جانا بھی ایک مسئلہ بن گیا چناں چہ مسٹر گل نے اس پر قابو پانے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا، جن میں مائیکرو ٹربائن بھی شامل تھے۔
اس نئے سسٹم میں پیاز کے عرق سے بیکٹیریا میتھین گیس پیدا کرتا ہے جس کے بعد یہ میتھن گیس تین سو کلو واٹس کے فیول سیل میں چلی جاتی ہے، ان تین سو کلو واٹس سے چار سو ساٹھ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے، کمپنی کو توقع ہے کہ اپنے جنریٹروں سے وہ تین سے چالیس فیصد تک بجلی پیدا کرسکے گی۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close