Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

کھیدا

 
   
 
کھیدا کوئی کھیل نہیں بلکہ بڑا محنت طلب اور خطرناک کام ہے۔ بنگلہ دیش میں جنگلی ہاتھی پکڑنے کی ترکیبوں کو کھیدا کہتے ہیں۔ کھیدے میں حصہ لینے والے لوگ ہاتھی کی فطرت سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ جنگلی ہاتھی بہت طاقتور اور خطرناک جانور ہوتا ہے۔مست ہاتھی سے لوگ پناہ مانگتے ہیں اور بھول کر بھی اس کے قریب نہیں جاتے۔ ہاتھی فطرتاً بہت چالاک اور کینہ پرور ہوتا ہے۔ کسی سے دشمنی ہوجائے تو عمر بھر اس کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ ہاتھیوں کے غول پانی کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ کسی ایسے علاقے میںجہاں آبی ذخائر موجود ہوں اور جنگلی ہاتھیوں کے جھنڈ پائے جاتے ہوں، وہاں ایک بڑا سا گڑھا کھودا جاتا ہے۔ گڑھے کی چھت کو درختوں کی کم زور ٹہنیوں سے چھپا کر اس پر مٹی کی تہ بچھادی جاتی ہے تاکہ ہاتھی کو شبہ نہ ہونے پائے کہ جھاڑیوں کے نیچے ایک گڑھا اسے پھانسنے کے لے بنایا گیا ہے۔ گڑھا تیار کرنے کے بعد بہت سارے لوگ مل کر ڈھول اور کنستر زور زور سے بجاتے ہیں تاکہ ہاتھیوں کا کوئی جھنڈ اندھا دھند اس گڑھے کی طرف دوڑے۔ تیز آواز سے گھبرا کر کچھ جوان ہاتھی اس گڑھے کی جانب دوڑتے ہیں۔ کسی ایک ہاتھی کا پاﺅں گڑھے کی کمزور چھت پر پڑتا ہے۔ کمزور ٹہنیوں کی یہ چھت ہاتھی کا وزن برداشت نہیں کرپاتی، ٹوٹ جاتی ہے اور ہاتھی اس گڑھے میں گر کر بدحواس اور بے بس ہوجاتا ہے۔ گرے ہوئے ہاتھی کے گرد مضبوط رسا باندھ کر اسے گڑھے سے باہر کھینچ لیا جاتا ہے۔اب جنگلی ہاتھی کی تربیت شروع ہوتی ہے۔ اسے آدمیوں سے مانوس کرایا جاتا ہے۔ بھوکا رکھا جاتا ہے۔ کوئی بات سیکھ جانے پر اسے من پسند کھانا اور ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ دس، پندرہ مہینے کی تربیت کے بعد ہاتھی کا جنگلی پن دور ہونے لگتا ہے اور وہ اپنے آقا کا حکم ماننے لگتا ہے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close