Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

دریائے ایمیزون

 
   
 
یہ ایک بھورا سمندر نما دریا تھا جو افق سے ابھر کر نیلے بحراوقیانوس میں گررہا تھا۔ اس کا سمندر میں شامل ہونے کا یہ نظارہ دو سو میل کی دوری سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر اچانک بادل گرجے اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ ایمیزون کے جنگلوں میں یہ بارش شروع ہوگئی۔ ایمیزون کے جنگلوں میں یہ بارش معمول کا حصہ ہیں۔ یہ الفاظ دریائے ایمیزون کو کشتی کے ذریعے پا کرنے والے چند سیاحوں کے ہیں۔ جو بھی ایمیزون کو دیکھتا ہے، ایک لمحے کے لیے حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ واقعی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر کو دیکھنا ہے تو ایمیزون بھی کسی سے کم نہیں۔
دریائے ایمیزون کی لمبائی چار ہزار میل ہے اور دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے۔ دنیا کے میٹھے پانی کا پانچواں حصہ اس کے کناروں کے درمیان بہتا ہے۔ تقریباً ایک ہزار چھوٹے بڑے دریا اس میں شامل ہو کر اس کے بہاﺅ میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ مختلف مقامات سے سمندر میں گرتا ہے۔ ان تمام مقامات پر مشتمل علاقے کو ایمیزونیا کا نام دیا گیا ہے۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ علاقہ یعنی ایمیزونیا دنیا نو ملکوں کے ساحلی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس مقام پر ایمیزون ایک بڑے سے جزیرے کو گھیرے ہوئے ہے۔ یہ جزیرہ ماراجو، سوئٹزرلینڈ جتنا بڑا ہے، شاید اسی لیے دریائے ایمیزون کو سب سے چوڑا دریا بھی کہتے ہیں۔
مچھلیوں کی سب سے زیادہ اقسام دریائے ایمیزون میں پائی جاتی ہیں۔ ایمیزون کے کنارے پائے جانے والے برساتی جنگلات کو دنیا میں سب سے بڑا جنگل کہا جاسکتا ہے۔ بلکہ دنیا کے ایک تہائی جنگلات اسی خطے میں واقع ہیں۔
یہاں کی زرخیز آب و ہوا میں عجیب و غریب قسم کے جانور پائے جاتے ہیں۔ ایمیزون کی مکڑیاں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ پرندے پکڑ لیتی ہیں۔ ان جنگلات میں سب سے بڑی تتلیاں اور اس کے علاوہ دنیا کے تمام پرندوں کی آدھی اقسام یہاں پائی جاتی ہیں۔ جب کہ ماہر حیاتیات کا کہنا ہے کہ پچاس فیصد اقسم ابھی تک بے نام ہیں اور ان کے متعلق جاننا باقی ہے۔
ایمیزون کے اطراف رہنے والے قبائل کسی طرح زہریلے اور موذی جانوروں کے درمیان رہتے ہیں۔ ایک الگ داستان ہے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ باہر کی دنیا کتنی تبدیل ہوچکی ہے۔ یہ ابھی تک تیر کمان سے مچھلی کا شکار کرتے ہیں۔بندروں کو اپنی غذا بناتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے یہاں پر قدم رکھنے سے انہیں بہت کم فرق پڑتا ہے، جب کہ گھنے جنگلات میں بننے والے کئی قبائل شاید ابھی باہر کی دنیا کو جانتے بھی نہیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close