Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

تاریخ لاہور کی

 
   
 
لاھور پاکستان کا دوسرا بڑا شھر ھے ایک اندازے کے مطابق اسکی اٌبادی5۔8 ملین ھے۔ ھزاروں سالوں سے یہ پنجاب کا دارالحکومت ھے۔پشاور سے دھلی تک یہ جنوبی ھند کا ثقافتی مرکز تھا۔لاھور شعراء فنکاروں کا شھر ھے۔یھاں ملک کےنامور تعلیمی ادارے اور خطے کے کچھ بھترین باغات ھیں،ملک کا تعلیمی اور ثقافتی مرکز ھونے کے علاوھ لاھورپاکیستان میں مغل اٌرکیٹکچرکی شان ھے۔قریباْ200سال پھلے لاھور مغل سلطنت کا ثقافتی مرکز تھا۔مغل حکمرانوں نے لاھور کو محل،باغات اورمساجد سے خوبصورت بنا دیا۔اصل شھر دریاے راوی کے جنوب کیطرف 1میل کے فاصلے پراور صوبےپنجاب کی مشرقی سرحد سےتقریباً23 کلو میٹر پر واقع تھا۔جب شھر کی دیوار موجود تھی اس نے شھر کو ایک متوازی الاضلاع کی شکل دے رکھی تھی۔ان دیواروں کا اندرونی رقبہ قریباً461ایکڑ تھا۔لاھور بلاشبہ قدیم ھے۔اس کے متعلق قیاس کیا جاتا ھے کہ اس کی بنیاد قریباً 4،000سال پھلےلوھ (ھندوں کی مذھبی کتاب "راماین"کے ھیرو "رام" کا بیٹالوھ)کے نام پر رکھی گئ تھی۔تاھم تاریخ سے یہ ثابت ھو چکا ھے کہ لاھور 2،000سال قدیم ھے۔1206 میںقطب الدین ایبک نے لاھور میں پھلی مسلم حکومت کی بنیاد رکھی اور برصغیر کا پھلا مسلمان حکمران بنا۔سلطنت میں اس کی اھمیت کم ذیادہ ہوتی رہی تاہم اس کے عروج کا زمانہ مغل حکومت میں 1524سے1752کا وقت تھا۔مغل جو اپنی تعمیرات کی وجہ سے مشھور تھے نے لاھور میں کئ یادگار اٌرکیٹکچر بناےجن میں سے بہت سے ناپید ھو چکے ہیں۔یہ اکبر کے دور میں 14سال1584 سے1598تک دالکومت رہا۔اکبر نے پرانے قلعے پر نے عظیم الشان قلعے کی بنیاد رکھی اور شہر کو12 دروازوں میں محصور کر دیا۔جہانگیر اور شاجہان(جو لاھور میں پیدا ھوے)نے قلعے کو مزید پھیلایامحل مقبرے اور باغات بنواے۔جہانگیرکو شہر سے بہت مہبت تھی وہ اوراس کی بیوی شاہدرہ میں دفن ہیں۔اورنگزیب نے مشہور یادگار "بادشاہی مسجد" بنوائ۔18صدی میںمغل سلطنت کے زاوال کے بعدانگریزوں نے1849میںلاھور پر چڑھائ کر دی۔ تاہم انگریزوں نے قدیم عمارتوں کو محفوظ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔لاھور کینٹ جو کہ انگریزوں کا رہائشی علاقہ تھا اپنے سایہ دار باغات،سفید بنگلوں اور سڑکوں پر موجود قطار در قطار درختوں کی بدولت پاکستان کا خوبصورت ترین علاقہ بن گیا۔ 
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close