Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

سمندر کی ملکہ

 
  نیئر ابدالی  
 
جس طرح پرندوں کو ہوا میں اڑتا دیکھ کر انسان نے ہوائی جہاز بنایا، اسی طرح پانی میں تیرتی مچھلیوں کو دیکھ کر آبدوز بنانے کا خیال بھی یقیناً کسی کو آیا ہوگا۔ پہلے یہ خیال ناممکن تھا مگر انسان کے عزم نے اسے ممکن کردکھایا۔ پانی کی سطح کے نیچے سفر کرنے والی کشتی پر پہلا تفصیلی مضمون سترہویں صدی میں ایک برطانوی ریاض دان اور بحری علوم کے ماہر ولیم بورن نے شائع کیا۔ اس میں جس آبدوز کا نقشہ بنایا گیا وہ لکڑی کے ڈھانچے کا بنا ہوا تھا اور اس پر چمڑے کی جلد چڑھی ہوئی تھی۔ مگر بورن محمدود وسائل کی بنائ پر ایسی آبدوز نہ بناسکا۔
دنیا کی پہلی آبدوز بنانے کا قابل فخر کارنامہ جس شخص نے انجام دیا وہ ہالینڈ کا رہنے والا تھا اور اس کا نام کارنیلئس وان ڈریبل تھا، اس نے 1620ء اور 1624ء کے درمیان ایک آبدوز تیار کی اور اسے دریائے ٹیمز میں بارہ ا پندرہ فٹ کی گہرائی میں اتارنے میں کامیاب ہوا۔ پھر اس شعبے میں تحقیق اور مسابقت کا صفر جاری رہا اور 1775ء کے بعد ڈیوڈ بشنیل نامی ایک طالب علم نے جنگی فاختہ نامی ایک آبدوز بنائی جو اخروٹ کی شکل سے مشابہ تھی۔ اس میں صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ پھر 1801ء میں رابرٹ فلٹن نامی امریکی نے فرانس میں ایک آبدوز بنائی یہ اس دور کی جدید آبدوز تھی جو لوہے اور پیتل کی شیٹ سے بنائی گئی تھی اس میں چار افراد دو جلتی ہوئی موم بتیوں سمیت تین گھنٹے زیر آب رہ سکتے تھے۔ اس آبدوز کو مرضی کے مطابق گہرائی میں اتارا یا اوپر کیا جاسکتا تھا۔ حکومت فرانس نے جب فلٹن کو اس ایجاد کا کوئی خاص نوٹس نہ لیا تو وہ برطانیہ چلا آیا اور یہاں اس نے اپنی آبدوز کے ذریعے ڈورتھی نامی دو مستوں کے جہاز کو تجربے کے طور غرق کیا۔
اس کے بعد فلٹن امریکا چلا گیا اور وہاں کانگریس کی حمایت سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ اس کا ارادہ اسٹیم انجن سے چلنے والی آبدوز بنانے کا تھا جس میں سو افراد کی گنجائش ہو۔ مگر موت نے فلٹن کو اس کام کی تکمیل کا موقع نہ دیا اور میوٹ نامی یہ آبدوز مکمل ہوئے بغیر پانی میں گلنے لگی اور بالآخر لنگر گاہ میں ڈوب گئی۔ اس کے بعد 1880ء میں ایک انگریز پادری نے بھاپ سے چلنے والی آبدوز بنائی جو زیر آباد کئی میل کا سفر کرسکتی تھی۔ انہی دنوں سویڈن کے ایک ڈیزائنر نے بھی بھاپ سے چلنے والی آبدوز بنائی جو پانی میں پچاس فٹ کی گہرائی میں جاسکتی تھی۔ اس آبدوز میں پہلی مرتبہ تار پیڈو ٹیوب لگائی تھی۔
خوب سے خوب تر کی تلاش میں فرانسیسی بحریہ کے دو افسروں نے 1864ء میں ایک سو چھیالیس فٹ طویل آبدوز بنائی جو اسی ہارس پاور کے انجن سے چلتی تھی۔
پھر برقی ایجادات نے انسانی ترقی کے نئے باب کھولے۔ 1886ء میں دو انگریزوں نے پچاس ہارس پاور کے برقی انجن سے چلنے والی آبدوز بنائی،اس برقی انجن میں سو بیٹری سیل لگے تھے جو آبدوز کو اسی میل تک سفر کراکے ختم ہوجاتے تھے۔ سطح آب پر آبدوزوں کی رفتار چھ ناٹ فی گھنٹہ تھی۔ ایک ناٹ  تقریباً ایک میل کے برابر ہوتا ہے، حقیقت میں انیسویں صدی کا یہ دور آبدوزوں کیی ترقی کا زمانہ تھا۔ ایک فرانسیسی میرین انجینئر میکم لا بوف نے 1899ء میں ایک سو گیارہ فٹ طویل آبدوز بنائی جو پانی کی سطح پر اسٹیم انجم سے اور پانی کے نیچے برقی موٹر سے چلتی تھی۔ اس نے اپنی اس ایجاد کا نام نارول رکھا۔ اس آبدوز نے ردوبار انگلستان میں اڑتالیس گھنٹوں کا بحری گشت نہایت کامیابی سے مکمل کیا۔ اس سے قبل سائمن لیک نامی ایک شخص نے پروٹیکٹر کے نام سے آبدوز بنا کر زار روس کو فروخت کی تھی۔
بیسویں صدی کے شروع ہونے کے بعد تقریباً تمام یورپی ممالک کے بحری بیڑے میں آبدوزیں شامل ہوچکی تھیں۔ 1914ء میں شروع ہونے والی پہلی جنگ عظیم میں یہ آبدوزیں بحری جنگ کا برا کامیاب ہتھیار ثابت ہوئیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1939ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران ان آبدوزوں کی اہمیت بڑھ چکی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران استعمال ہونے والی آبدوزوں کی رفتار 5۔17 ناٹ فی گھنٹہ ہوتی تھی۔ جس میں ساڑھے تین انچ قط کی ڈیک گن، مختلف اینٹی ایئر کرافٹ گنیں اور کئی تارپیڈ و ٹیوب لگی ہوئی تھیں۔ دوسری جنگ عظیم جب 1945ء میں ختم ہوئی تو اپنے بحری بیڑے کو مضبوط کرنے کے لیے امریکا نے ڈیزل انجن سے چلنے والی اکیس آبدوز تیارکیے۔ جن میں خطرناک گائیڈڈ میزائل اور راڈار پکٹ لگے ہوتے تھے۔
چوں کہ دوسری جنگ عظیم میں ایٹم بم کا تجربہ کامایب ہوچکا تھا اس لیے ایٹم کی قوت سے چلنے والی آبدوز کی تیاری کا کام مختلف ممالک نے شروع کیا۔ مگر امریکا سب سے سبقت لے جانے میں کامیاب ہوگیا، دنیا کی پہلی ایٹمی آبدوز 17 جنوری 1955ء کو سمندر میں اتاری گئی۔ یہ آبدوز تین سو بیس فٹ طویل تھی، اس کا وزن تین ہزار پانچ سو تیس ٹن تھا۔ اس ایٹمی آبدوز میں چھ تار پیڈو ٹیوب نصب تھیں اور اس کی رفتار بیس ناٹ فی گھنٹہ تھی۔ پھر 1960ء اور 1970ء کے درمیانی عرصے میں ایسی آبدوزیں بنائی گئیں جو انتہائی جدید ہتھیاروں سے لیس ہوتی تھیں اور جو چار سو فٹ سے زیادہ طویل تھیں اور ان کا وزن ساڑھے چھ ہزار ٹن سے زائد تھا۔
بحری جنگ میں موثر دفاع کے علاوہ اب آبدوزوں سے سمندری تحقیق اور سمندر میں مختلف معدنیات کی تلاش کا کام بھی لیا جارہا ہے۔ ایٹمی قوت سے چلنے والی آبدوزیں زیر آب مہینوں رہ سکتی ہیں اور جنگ کی صورت میں پانی کی سطح پر آئے بغیر یہ مختلف نیو کلیئر میزائل بھی فائر کرسکتی ہیں۔ آج کی جدید آبدوز مکمل ائیر کنڈیشنڈ ہوتی ہے۔ کھانے پکانے کے لیے الیکٹرک کچھ اور مکمل سامان،ڈائننگ روم، چھوٹا سا سینما ہال اور عملے کے آرام کے لیے نہایت آرام دہ بستر ہوتے ہیں۔ آبدوز کا سب سے اہم مرکز اس کا کنٹرول روم ہوتا ہے جہاں سے پائلت راستے کا تعین کرتا ہے۔ وہ اپنے سامھے لگے ہوئے ٹیلی وژن اسکرین کے زریعے اپنے روٹ پر آبدوز چلاتا ہے۔ آج کل جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی آبدوزوں میں جدید ترین راڈر لگے ہوتے ہیں جو دشمن کی آبدوز یا بحری جہازوں کی بروقت نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ 21 انچ قطر کی 21 فٹ لمبی تارپیڈ ٹیوب لگی ہوتی ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اب بحری فوج کا اپنے عزم اور حوصلے کے بعد سب سے بڑا ہتھیار آبدوز ہی ہے۔


 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close