Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ستاروں پر کمند

 
   
 
زمین اپنے پورے پھیلائو کے باوجود انسان کے لیے تنگ ہورہی ہے، اس نے پہاڑوں کی چوٹیاں سر کیں، سمندر کھنگال ڈالے،برفستانوں میں گشت لگائے اور اب وہ دوسرے جہانوں کا رخ کررہا ہے۔ ایٹم کا رام معلوم ہوا تو قوت کا ایک نیا خزانہ ہاتھ لگا۔ لہٰذا اب ایٹمی راکٹ تیار کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔
جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، ہوائی جہاز صرف ہوا میں کام دے سکتا ہے اور ہوا زمین سے دس میل کی بلندی پر ہی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ وہاں ہوائی جہاز کے پر بے کار ثابت ہوتے ہیں۔ وہاں سے خلا کے دروازے کھل جاتے ہیں جس میں سفر کرنے کا بہترین ذریعہ راکٹ ہے۔
راکٹ کہنے کو تو پرانی ایجاد ہے لیکن اس کے لیے نئے ایندھن دریافت کرنے اور اس کی رفتار بڑھانے کا کام موجودہ صدی میں شروع ہوا۔ پہلے روس کے ایک سائنس دان نے اس کے متعلق ایک کتاب لکھی، پھر آسٹریا، جرمنی، برطانیہ، فرانس، امریکا اور دوسرے ملکوں کے سائنس دانوں نے تجربے کیے۔ جگہ جگہ سوسائٹیاں اور ادارے بھی بن گئے۔ بالاخر امریکا میں دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے طاقت ور راکٹ سیٹرن پنجم بنایا گیا، جس نے انسان کو چاند پر پہنچادیا۔
خلائی سفر یوں تو بڑا ولولہ انگیز معلوم ہوتا ہے، لیکن اس میں بعض سخت دشواریاں بھی پیش آتی ہیں، پہلی مشکل تو یہ ہے کہ راکٹ میں اتنی قوت پیدا کی جائے جس سے وہ زمین کے دائرہ کشش سے باہر نکل جائے۔ صرف اسی صورت میں وہ کسی دوسرے جہان کا رخ کرسکتا ہے۔
ایک جرمن سائنس داں نے ثابت کیا کہ اگر کوئی راکٹ زمین سے سات میل فی سیکنڈ یا تقریبا پچیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرے تو کشش ثقل کو شکس دے کر کسی دوسرے جہان پر جاسکتا ہے۔ سیترن پنجم نامی راکٹ نے یہ ممکن کر دکھایا اور یوں انسان کی قدیم خواہش پوری ہوئی اور وہ چاند پر پہنچا۔
چوں کہ خلا میں وہ فضائی دبائو باقی نہیں رہتا، جس کے ہم زمین پر عادی ہیں اور نہ وہاں سانس لینے کے لیے آکسیجن گیس ہی موجود ہے، اس لیے سائنس دانوں نے خلائی مسافروں کے لیے خاص طرز کا ایک لباس بنایا، جس پریشر سوٹ کہتے ہیں اس کے ساتھ آکسیجن گیس کی بوتلیں لگائی۔ اس طرح یہ دشواری بھی دور ہوگئی۔
خلا میں ایک اور خطرہ شہابیوں سے لاحق رہتا ہے، جو دن رات ہر وقت ہماری زمین پر گرتے رہتے ہیں، اگر کوئی شہاب خلائی جہاز سے ٹکرا جائے تو تباہی یقینی ہے، لیکن سائنس دانوں نے یہ خطرہ مول لیا اور وہ بچتے بچاتے چاند پر پہنچ ہی گئے۔
انسان کی اس عظیم کامیابی میں مصنوعی سیاروں کا بڑا حصہ ہے جنہوں نے ہمیں خلا کے متعلق نہایت مفید معلومات مہیا کیں۔ سب سے پہلے روسی سائنس دانوں نے 4 اکتوبر 1957ء کو ایک سیارہ چھورا جو سپوتنگ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے بعد روس اور امریکا دونوں ملکوں نے بہت سے سیارے چھوڑے اور بہت سے راکٹ خلا میں بھیجے۔ جانباز لوگوں نے بلند پروازی اور خلا میں زیادہ سے زیادہ مدت تک ٹھہرنے کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ خود کار آلات نے چاند اور دوسرے سیاروں کے متعلق مفید معلومات فراہم کیں۔
جب اچھی طرح اطمینان ہوگیا کہ راکٹ انسان کو چاند کی سیر کراسکتا ہے۔ توتین امریکی خلا باز نیل آرمسٹرانگ، مائیکل کولنز اور ایڈون ایلڈرین 16 جولائی 1969ء کو اپالو۔ 11 نامی منصوبے کے تحت چاند کی طرف روانہ ہوئے۔ 21 جولائی کو دو خلا باز چاند پر اترے اور وہاں سے کچھ قمری نمونے اور تصویریں لے کر زمین پر واپس آگئے۔
اس طرح اپالو-12 منصوبے کے تحت تین اور خلا باز چند ماہ بعد چاند کی طرف گئے اور اس کے کچھ اور نمونے لے کر زمین پر واپس آگئے۔ اپالو منصوبے کے تحت شاند کے ایسے ہی اور سفر بھی کیے جائیں گے۔ اس کے بعد مریخ اور زہرہ ہماری منزل بنیں گے۔ نظام شمسی میں یہ دونوں سیارے ہمارے پڑوسی ہیں۔ میری نر اور دوسرے خلائی جہازوں کے ذریعے سائنس دان ان کے بہت سے حالات معلوم بھی کرچکے ہیں۔ نظام شمسی کی سیر کرنے کے بعد بہت ممکن ہے، انسان سیاروں کے کسی اور نظام کا رخ کرے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close