Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

سانپ رے سانپ

 
  ہاشمی کے قلم سے  
 
” ہم آپ کو ایک خوفناک ، دہشت ناک اور مشہور جانور کا کچھ احوال بتلاتے ہیں، دنیا بھر میں سانپ کو بدی اور شیطانیت کے نشان کے طور پر جانا جاتا ہے، اس جانور سے انسان کی ناپسندیدگی کی وجہ اس کا زہر ہے، نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی اس سے ڈرتے ہیں لیکن اگر آپ کسی ایک یا دو سال کے بچے کو سانپ سے ڈرانا چاہیں تو وہ ہر گز نہیں ڈرے گا جب تک کہ ہم بچے کے دماغ میں سانپ کا خوف نہیں بٹھا دیتے، کسی زہریلے سانپ کی پہچان کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، دنیا بھر میں پائے جانے والے سانپوں میں سے صرف ایک تہائی زہریلے ہوتے ہےں اور وہ بھی زیادہ تر انسان کا سامنا کرنے سے اجتناب ہی کرتے ہیں، پاکستان میں پائے جانے والے سمندری سانپوں کے علاوہ صرف آٹھ ایسی اقسام اب تک دریافت ہوئی ہیں جو کہ زہریلے سانپوں کے گروہ سے تعلق رکھتی ہیں۔
رفنی رسل (وائپر رسیلی): پورے پاکستان میں یہ سانپ زیادہ تر میدانی علاقوں میں ملتا ہے۔ اس کی کچھ اقسام پہاڑوں پر بھی رہتی ہے، پنجاب میں یہ سانپ، کوڑیوں والا سانپ اور سندھ میں کرار کے نام سے شہرت رکھتا ہے۔ یہ اپنے جسم کی نمایاں بناوٹ کے باعث پہچانا جاتا ہے۔ اس کے پیٹھ پر سیاہ دھبوں کی تین قطاریں ہوتی ہیںاور اس ہی وجہ سے انسانی آبادیوں کے قریب ملتے ہیں۔ سر پر اکثر Vشکل کا نشان بھی پایا جاتا ہے۔ یہ چوہوں، چھپکلیوں اور مینڈکوں کو بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اس ہی وجہ سے انسانی آبادیوں کے قریب ملتے ہیں۔” سی سی سی“ جیسی آواز یہ اپنے نتھنوں سے نکالتا ہے۔ یہ سانپ بچے دیتا ہے جو پیدائش کے وقت گیارہ انچ سے زیادہ لمبے ہوتے ہیں اور یہ بھی انتہائی زہریلے ہوتے ہیں۔ اس سانپ کی مجموعی لمبائی تقریباً پانچ فٹ ہوتی ہے۔ اس کے کاٹنے سے انسان چند گھنٹوں یا چند دنوں میں مرجاتا ہے۔
منشار سفنوں والا سانپ (ایکس کاری نیٹس): یہ بھی تقریباً پورے ملک میں ہی پایا جاتا ہے، لیکن خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے صحرائی اور میدانی علاقوں میں بکثرت ملتا ہے۔سندھ میں اس کو کھپرا اور پنجاب میں جلیبی سانپ یا پشتی سانپ کے نام سے پکارا جاتا ہے، اس کی لمبائی دو فٹ تک ہوتی ہے، برا_¶ن رنگ کی پشت پر اطراف سے ہلکے رنگ کی دھاریاں، سر پر پرندے کے پا_¶ں کی طرح کے نشان ہوتے ہیں اور یہ اکثر دن کے اجالے میں نظر آتے ہیں، خوراک میں چوہے پسند ہےں، چھیڑنے پر فوراً حملہ آور ہوگا۔ یہ اپنے جسم کو اس انداز سے بل دیتا ہے کہ 8بن جاتا ہے۔ یہ بھی انڈے کے بجائے بچے دیتا ہے۔ اس کا ڈسا ہوا انسان چوبیس گھنٹوں میں یا زیادہ سے زیادہ دو دن میں مر جاتا ہے۔
ناگ راج(ناجا بنگیرس): یہ سانپ ہمارے ملک میں بہت کم تعداد میں ہوتا ہے۔ ہمالیہ کا شمالی پہاڑی علاقہ اس کا مسکن ہے۔ یہ میدانی اور پہاڑی جنگلوں میں کثرت سے ملتا ہے۔ سپیرے اس کو شیش ناگ کہتے ہیں۔ یہ تقریباً آٹھ سے سولہ فٹ تک لمبا ہوتا ہے۔ ایک جوان ناگ راج مختلف رنگوں مثلاً پیلا، سبز، بھورا یا سیاہ ہوتا ہے۔ یہ ہیبت ناک سانپ جنگجو سمجھاجاتا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بلااشتعال حملہ کر دیتا ہے۔ مگر اس کی کوئی مثال دیکھنے میں نظر نہیں آئی۔ اس کے کاٹنے سے انسان چند گھنٹوں کے اندر اندر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کی خوراک اپنے سے دوسری اقسام کے چھوٹے سانپ ہوتے ہیں۔ ناگ راج کا جوڑا جنوری میں نظر آتا ہے۔ یہ اپنا گھونسلہ اپریل اور مئی میں بناتا ہے۔ یہ واہد کوبرا ہے جو اپنا گھر خود بناتا ہے۔ اس کی مادہ تیس سے چالیس انڈے دیتی ہے اور جب تک ان انڈوں سے بچے نہیں نکل آتے مادہ ان کی حفاظت کرتی ہے۔ بچے نکلنے تک جوڑا اکٹھا ہی رہتا ہے۔ مادہ گھر کے اندر جبکہ نر گھر سے باہر رہ کر ان کی حفاظت کرتا ہے۔ ایک چھوٹا کوبرا جب انڈے سے باہر آتا ہے تو اس کی لمبائی بیس انچ ہوتی ہے جو کہ ایک عام زہریلے سانپ کی لمبائی کے برابر ہے۔
٭....٭....٭
ہندوستانی ناگ یا کالا ناگ (ناجانا جا): یہ سانپ پاکستان کے جنگلوں اور دیگر سرسبز جگہوں پر بکثرت پایا جاتا ہے۔ خصوصاً پنجاب کی تحصیل چیچہ وطنی اور دریائے سندھ کے کنارے گھنی سبز جھاڑیوں میں ملتا ہے۔ یہ دیکھنے میں ایک خوبصورت رنگوں والا سانپ ہے۔ عام طور پر اسے ناگ پھنٹر اور کالا ناگ کہتے ہیں۔سپیروں کو خاص طور پر اس سانپ کی تلاش رہتی ہے۔ یہ بہت زہریلا اور پھن دار سانپ ہوتا ہے۔ اس کے سر پر خاص نشان ہوتا ہے اور جسم پر ناگ راج کی طرح سفید پٹیاں نہیں ہوتیں۔
عام کریٹ یا سنگ چور: یہ نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ پورے برصغیر میں عام پایا جاتا ہے۔ پنجاب میں یہ چت کوریا اور سندھ میں پی ان کہلاتا ہے۔ یہ چمکدار سیاہ رنگ کا ہوتا ہے اور اس کی پیٹھ پر سفید رنگ کی دھاریاں ہوتی ہیں۔ اس کی لمبائی تین سے چار فٹ تک ہوتی ہے۔ اکثر اوقات یہ پانچ فٹ تک لمبے بھی دیکھے گئے ہیں۔ یہ سانپ اکثر انسانی آبادیوں کے قریب ہی ملتا ہے۔ یہ پانی کا متلاشی رہتا ہے اور رات کو شکار کی تلاش میں نکلتا ہے۔ یہ سردی زیادہ محسوس کرتا ہے اور تنگ آکر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ اکثر یہ دیہاتوں کی چارپائیوں پر رینگ جاتا ہے اور کود کو بستر کی چادر یا تکیہ میں چھپا لیتا ہے اور بغیر کوئی نقصان پہنچائے۔ اگلے دن وہاں سے باہر آجاتا ہے۔ یہ اکثر جوڑے کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ اس لیے اگر ایک کو مار دیا جائے تو دوسرا قریب ہی مل جاتا ہے۔ اس کی پسندیدہ خوراک چوہے اور مینڈک ہیں لیکن اکثر اندھے سانپ شوق سے کھاتا ہے۔ اس کا زہر کو برا سانپ سے چار سے پانچ گنا زیادہ زہریلا ہوتا ہے۔ اس کے کاٹنے سے سانس لینے میں دشواری اور اعصاب پر فالج کی سی کیفیت سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن خاص بات کہ مریض کے پیٹ میں شدید قسم کا درد ہوتا ہے ۔ اس کے کاٹنے سے مریض چھ سے آٹھ گھنٹہ میں ختم ہوجاتا ہے۔
ان مشہور سانپوں کے علاوہ زہریلے سانپوں میں دھبہ دار کھڈ،چتر ، کھپرا، ہمالیہ کا کھڈ، سینگ دار سانپ اور گاما سانپ وغیرہ بھی پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ سمندروں میں پائے جانے والے زہریلے سانپوں میں عام سمندری سانپ (ہائیڈرونس) وائیپرائن سمندری سانپ، مالا ہار اور چھوٹے سروں والے سانپ کراچی اور بلوچستان کے ساحلوں پر پائے جاتے ہیں۔
اژدھا (پائی تھن مولیورس):
بڑی جسامت والا ناگ آٹھ سے بیس فٹ تک لمبا اور تین سو پچاس پونڈ تک وزنی ہوتا ہے۔ یہ اکثر پنجاب کے قریب پہاڑوں اور ندی نالوں کے کنارے پائے جاتے ہیں۔ اس کی چھوٹے بچے اکثر سپیروں کے پاس دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہ پانی کا جنون کی حد تک شوقین ہوتا ہے۔ یہ اپنی دم کی مدد سے درختوں پر چڑھتا ہے۔ پانی میں غوطہ لگاتا ہے اور وہاں یعنی زیر آب پندرہ منٹ یا اس سے بھی زیادہ دیر تک رہ سکتا ہے۔ لمبائی کی زیادتی کی وجہ سے یہ زیادہ تیز دوڑ نہیں سکتا۔ اس کی عمومی خوراک پرندے، ہرن اور دودھ دینے والے جانور ہوتے ہیں۔
ڈھمن سانپ یا چوہا سانپ:
یہ سانپ کافی موٹا اور مضبوط ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی ایک فٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ پاکستان میں تقریباً تمام جگہوں پر پایا جاتا ہے۔ یہ سات ہزار فٹ کی بلندی پر بھی دیکھا گیا ہے۔ اکثر انسانی گھروں کا بھی رخ کر لیتا ہے۔ دن کی روشنی میں یہ اپنے آپ کو پتھروں وغیرہ کے نیچے چھپا لیتا ہے۔ اکثر کھیتوں اور جھاڑیوں میں ملتا ہے۔ جسم کا اوپری حصہ سنہری اور بھورا اور نیچے کا حصہ پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کی پسندیدہ غذا تو چوہے ہیں لیکن یہ مینڈک اور پرندے بھی شوق سے کھا لیتا ہے۔ یہ پانی خوب پیتا ہے اور اکثر پانی میں تیرتا ہوا پایا گیا ہے۔ یہ درختوں پر تیزی اور آسانی سے چڑھ کر ماہرانہ انداز میں پرندوں کا شکار کرتا ہے۔ عموماً یہ انسانوں سے دور ہی رہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر مجبوراً یا اتفاقاً انسان سے ٹکرا_¶ ہو ہی جائے تو پوری غیض و غضب سے حملہ کر دیتا ہے۔ اگر چہ یہ ایک بے ضرر سا سانپ ہوتا ہے مگر اس کے کاٹنے سے نہایت سخت تکلیف ہوتی ہے۔ یہ اکثر اپنے دشمن کے منہ پر حملہ کرتا ہے اور اس دوران اس کے منہ سے بہت تیز آواز میں پھنکار نکلتی ہے۔
رسل مینی سانپ:
یہ موٹا اور گول سانپ ایک سے تین فٹ لمبا ہوتا ہے۔ سب سے نمایاں اس کی دم ہوتی ہے۔ جو سوا انچ لمبی اور تکونی شکل کی ہوتی ہے۔ جس کا سرا نوکدار ہوتا ہے۔ جسم کا رنگ سرمئی ہوتا ہے اور پیٹھ پر بھورے رنگ کے نشان ہوتے ہیں۔ سر کا تھوتھنی نما حصہ زمین پر سوراخ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ آنکھیں چھوٹی ہونے کی وجہ سے اس سانپ میں دیکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ یہ زمین میں بل بنا کر رہتا ہے۔ جو زیادہ گہرا نہیں ہوتا۔ یہ بچے بھی دیتا ہے۔ بنیادی طور پر سست اور کاہل ہونے کے سبب سپیرے اس سانپ کو اپنے پاس بہت کم ہی رکھتے ہیں۔ یہ اپنے سر کو جسم کے مڑے ہوئے حصے میں چھپا کر بیٹھا رہتا ہے۔ اس کی خوراک دودھ دینے والے چھوٹے جانور ، گلہریاں اور چوہے ہیں۔ یہ مکمل طور پر ایک بے ضرر جانور ہے۔
دو منہ والا سانپ:
یہ ایک عام سانپ ہے لیکن اس کی خاص اور انوکھی بات یہ ہے کہ اس کا منہ اور دم ایک جیسی ہوتی ہےں مگر دم کا حصہ نوکدار ہونے کے بجائے کند ہوتا ہے۔ پنجاب میں عام طور پر یہ دو مونہی کہلاتا ہے۔ یہ گھرے بھورے یا سیاہ رنگ کا ہوتا ہے۔ کمر اور پر بے ترتیب سے دھبے ہوتے ہیں۔ تھوتھنی عام طور سے زمین میں سوراخ کرنے کے کام آتی ہے۔ آنکھیں بہت چھوٹی ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آتیں۔ یہ چار فٹ لمبا ایک بے ضرر سانپ ہے۔ جس کی خوراک چوہے اور گلہریاں وغیرہ ہےں۔ اس کے بچے بھورے رنگ کے ہوتے ہیں تاہم کمر پر سیاہ دھاری ہوتی ہے۔
ساتھیوں! آپ نے یقینا بین کی دھن پر سانپ کا رقص ضرور دیکھا ہوگا۔ یہ ہماری قدیم روایت اور ثقافت کا حصہ ہے اور ملک کے تقریباً ہر شہر اور گا_¶ں میں ہم کو سپیرے مخصوص سا لباس پہنے، گلے میں ایک جھولی لٹکائے، جس کے ایک حصہ میں سانپ کی پٹاری اور دوسرے حصہ میں کھانے پینے کا کچھ سامان ہوتا ہے جبکہ ہاتھ میں بین اور جہاں آٹھ دس بچے اور بڑے جمع ہوئے تو سپیرے نے بین بجانی شروع کر دی۔ اپنی پٹاری کھولی اور اس میں سے سانپ نے بین کی دھن اور حرکت کے مطابق رقص اور حرکت کرنی شروع کر دی۔ خوف اور دہشت کی علامت اس جانور کا یہ رقص بچے اور بڑے سب ہی شوق اور خوف سے دیکھتے ہیں۔
٭....٭....٭

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close