Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ابتدا سے آج تک بحری سفر

 
  حرا سلیم  
 
بحری سفر کی ابتدا اس وقت ہوئی جب انسان نے لکھنا پڑھنا بھی نہ سیکھا تھا، اس لیے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ بحری جہاز کی ایجاد کب، کہاں، کیسے ہوئی۔ انسان کی پہلی آبادیوں ان علاقوںمیں ہوئی جو دریائوں، جھیلوں اور سمندروں کےقریب تھے۔ ان آبادیوں میں رہنے والوں میں سے کسی نے لکڑی کے تختے جوڑ کر کشتی ایجاد کی، آہستہ آہستہ اس کشتی نے بڑے بڑے بحری جہازوں کی شکل اختیار کرلی۔
کشتی یا بادبانی جہاز انسان کی پہلی اہم ایجادات میں شامل ہے، خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ کے پیدائش سے 2800 سال پہلے مصر کے لوگوں نے سب سے پہلے دریائے نیل میں جہاز رانی شروع کی۔ عرب جہاز راں بھی اس سلسلے میں کافی مہارت اور شہرت رکھتے تھے۔ پرانے زمانے میں بحری جہاز لوہے کے بجائے لکڑی کے قطبی ستارے کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ عرب جہاز رانوں کی تاریخ میں قطب نماز کا ذکر بھی ملتا تھا۔
اس وقت دنیا میں تقریباً تین سو کمپنیاں بحری جہاز بنارہی ہیں۔ فن لینڈ کی ایک کمپنی کے تیار کیے ہوئے بحری جہاز فریڈم آف دی سیز کو دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز قرار دیا جارہا ہے۔ یہ 1912 میں بننے والے بحری جہاز ٹائی ٹیکنک سے پانچ گنا بڑا ہے۔ اس قسم کے مزید جہاز بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ اس میں تین ہزار چار سو تین مسافروں کے گنجائش ہے۔ جہاز کا عملہ ایک ہزار چار سو افراد پر مشتمل ہے۔ جن میں دو سو چالیس باورچی بھی شامل ہیں۔ اس بحری جہاز میں مسافروں کی تفریح اور حفاظت کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ جہاز میں ٹیلی وژن اسٹوڈیو، اسٹیج ڈراما، باکسنگ، والی بال، باسکٹ بال کھیلنے کی جگہ، کتابوں کی ایک بڑی دکان، واٹر گیمز، ہوٹل، آئس کریم پارلر وغیرہ کی سہولت موجود ہے۔ اس جہاز پر حفاظتی انتظامات بھی بہت سخت ہیں۔ خفیہ ویڈیو کیمرے،وائرلیس ٹیکنالوجی اور ایکسرے اسکیننگ کے علاوہ دوسرے جدید آلات بھی جگہ جگہ نصب ہیں۔ ہر مسافرکو ایک خصوصی شناخت کارڈ دیا جاتا ہے تاکہ کوئی غلط آدمی جہاز پر سوار نہ ہوجائے۔
بار بردار بحری جہاز
ہزاروں سال پہلے بھی دور دراز ے علاقوں سے بھاری سامان کی تجارت بحری جہازوں کے ذریعے سے ہی ہوتی تھی۔ آج بھی دنیا بھر میں تجارتی مال ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لیے بحری جہاز ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ کارگو جہاز کہلاتے ہیں۔ بیسیوں صدی میں جہاز سازی اور جہاز رانی کا فن میں حیرت انگیز ترقی ہوئی۔ آج کل کے جہاز گویا تیرتی ہوئی عمارتیں ہیں۔ یہ جہاز عام طور پر تیس ہزار ٹن سے لے کر پچاس ہزار ٹن تک کا وزن اٹھا سکتے ہیں اور ان کی رفتار پچھلی صدی کے جہازوں سے بہت زیادہ ہے۔ ایک بحری جہاز کی فی گھنٹہ رفتار کو ناٹ کہا جاتا ہے۔ یہ بحری جہاز کی رفتار کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔ میل خشکی کا پیمانہ ہے اور ناٹ سمندر کا۔ سمندر کا ایک ناٹ 6080 فٹ کے برابر ہوتا ہے، جب کہ خشکی کا میل 5280 فٹ کا ہوتا ہے، یعنی سمندر کا ایک ناٹ خشکی کے ایل میل سے 800 فٹ زیادہ ہوتا ہے۔
جدید کارگو بحری جہازوں میں ہنگامی ضرورت کے لے بہت سی لائف بوٹس، آگ بجھانے کے آلات، تار برقی، ٹیلی فون، وائرلیس، کمپیوٹرز وغیرہ لگے ہوتے ہیں۔ سامان ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے کے لیے خاص قسم کے بڑے بڑے بکس استعمال ہوتے ہیں، جنہیں کنٹینر کہتے ہیں۔ یہ دو مختلف سائز کے ہوتے ہیں یعنی 20 فٹ لمبے اور 40 فٹ لمبے۔ مال بھیجنے والا تاجر کو روانہ کردیے جاتے ہیں، جو مال منگواتا ہے۔ یہ کاغذات مال پہنچنے سے پہلے ہی تاجر کو مل جاتے ہیں۔ ان کاغذات کی مدد سے وہ اپنے ملک میں سامان چھڑالیتا ہے۔ لین دین کا یہ تمام کام بینکوں کے ذریعے سے مکمل ہوتا ہے۔ بھاری سامان لانے لے جانے کے لیے مال بردار بحری جہاز سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ان جہازوں کی مدد سے دنیا بھر میں تجارت آسان ہوگئی ہے۔ بڑے بڑے بحری جہازوں کی وجہ سے سمندر میں آلودگی بھی بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے سمندری حیات کو نقصان پہنچ رہا ہے، ایک بڑا بحری جہاز ایک ہفتے میں اندازاً پچاس ٹن کچرا، دس لاکھ گیلن گندا پانی اور 35 ہزار ٹن استعمال شدہ تیل سمندر میں پھینکتا ہے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close