Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

پرندوں کا بادشاہ

 
  جنید احمد  
 
عقاب ہر لحاظ سے پرندوں کا بادشاہ کہلانے کا مستحق ہے۔ شیر کی طرح نڈر اور خوں خوار ہے اور چھوٹے بڑے سب پرندوں کے لیے دہشت کی علامت ہے۔ اس کی 50 سے زیادہ قسمتیں ہیں۔ شکرار، شاہین، باز، سب عقاب کی قسمیں ہیں۔
باز اور شکرا جسامت کے لحاظ سے چھوٹے ہوتے ہیں جبکہ عقاب بڑا ہوتا ہے۔ انگریزی میں بازFalcon اور عقاب Hawk کہلاتا ہے۔ یہ ہمیشہ شکار کرکے کھاتا ہے اور کبھی مردار نہیں کھاتا۔ تیز رفتاری اور تیز نگاہی میں عقاب کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ کبوتر، فاختہ، چڑیاں اور مرغابیاں اس کا من بھاتا کھاجاہیں۔ امریکا میں کئی قسم کے عقاب، سانپ، چھپلکی، خرگوش اور لومڑی وغیرہ کا بھی شکار کرتے ہں۔ سمندری عقاب اپنے وزن سے بھاری مچھلی پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے ماہی باز بھی کہتے ہیں۔
عقاب ایک ہزار فٹ کی بلندی سے چوہے اور گلہری کو باآسانی دیکھ سکتا ہے اور زبردست رفتار سے ہوا میں غوطہ لگاتے ہوئے اپنے شکار پر جھپٹا ہے اور اسے اپنے طاقت ور پنجوں میں جکڑ کر انتہائی بلندی پر لے جاتا ہے۔ بے چارہ شکار تو دہشت اور خوف سے اسی وقت ختم ہوجاتا ہے جب عقاب اس پر جھپٹتا ہے۔
عقاب کے اوسط رفتار 150 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ رفتار
Pergrine Falconنامی قسم کی ہے۔ یہ  180 کلو میٹر کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے اور غوطہ لگاتے وقت اس کی رفتار 200 کلو میٹر کی رفتار سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔
سمندری عقاب کی نسل اب ختم ہوتی جارہی ہے۔ اس کی بعض قسمیں بہت بڑی ہوتی ہیں۔ یہ تین سے ساڑھے تین فٹ تک لمبا ہوسکتا ہے اور پروں کے پھیلائو کے ساتھ اس کی جسامت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ بعض قسموں کے عقاب اتنے نڈر ہوتے ہیں کہ وہ لم ڈھنگ اور اور سارس جو کہ بڑے پرندے ہیں اور غول کی صورت میں رہتے ہیں، پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کی ٹانگوںپر حملہ کرکے انہیں شدید زخمی کردیتے ہیں۔ پھر پنجوں اور چونچ کے حملوں سے انہیں ہلاک کرکے لے اڑتے ہیں۔
مرغابیوں کا شکار کرنے والا عقاب ڈک ہاک کہلاتا ہے۔ اسے شکاری تالاب یا ایسی جھیل پر چھوڑ دیتے ہیں جس میں مرغابیوں کی کثرت ہو۔ اس کی دہشت سے مرغابیاں اڑ نہیں پاتیں اور انہیں آسانی سے شکار کرلیا جاتا ہے۔ اپنی مڑی ہوئی انتہائی تیز چونچ سے یہ عقاب مضبوط سے مضبوط کھال اور سخت سے سخت گوشت کاٹ سکتا ہے۔ یہ ہمیشہ ایشی جگہوں پر گھونسلا بناتا ہے جہاں پہنچنا صرف اس کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ مثلاً امریکن سمندری عقاب انتہائی دشوار گزار اور خوفناک چٹانوں کا اسی مقصد کے لیے انتخاب کرتا ہے، جب عقاب کے بچے اڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو وہ انہیں اپنے گھونسلے سے نکال دیتا ہے کہ جائو خود شکار کرو اور کھائو۔ یا پھر نر اور مادہ، یعنی بچوں کے والدین گھونسلا اپنے بچوں کے لیے چھوڑ کر کہیں اور چلے جاتے ہیں۔
بلند پروازی میں بھی عقاب کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ 20سے 30 ہزار فٹ کی بلندی تک ان کی پرواز ریکارڈ کی گئی ہے۔ حد یہ ہے کہ عقاب کی بعض قسمیں انتہائی بلندی پر اڑتے اڑتے طویل اور گہرا غوطہ مار جاتی ہیں۔ اللہ نے عقاب کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ یہ طوفان اور آندھی میں بھی ہوا کے دوش پر تیرتا ہوا اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ بہت پرانے زمانے سے اسے شکار کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اہرام مصر پر موجود تحریروں اور تصویروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مصر کے فرعونوں نے اسے شاہی پرندے کا اعزاز دے رکھا تھا۔ فرعون اپنے ساتھیوں کے ساتھ شکار پر جاتے وقت باز ضرورساتھ رکھا کرتے تھے۔ آج بھی کئی ملکوں کے جھنڈے اور سرکاری مہروں پر عقاب بنا ہوتا ہے، کیوں کیہ یہ بہادری،ہمت اور طاقت کی علامت ہے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close