Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

سنہری ریگستانی مکڑی

 
   
 
جنوب مغربی افریقہ کے ملک نمیبیا کے ریگستان میں کئی قسم کی ایسی مکڑیاں پائی جاتی ہیں جو سیدھے کے بجائے دائیں بائیں دوڑنے کے علاوہ اپنی آٹھ ٹانگوں کی مدد سے گیند جیسی گول ہو کر،ریپ کے ٹیلوں میں گھس کراپ نا شکار کرنے والی بھڑوں سے محفوظ ہوجاتی ہیں۔
سائنس کی دنیا میں یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ارتقا کے عمل میں بہت سی چیزیں بنیں، پہیا کیوں ہیں بنا، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اس وقت سڑک نہیں تھی، اس لے پہیے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔
نمیبیا کے سرکاری عجائب گھر کے ماہر حیوانات جونیز ہین شل کہتے ہیں کہ مکڑی حیوانی دنیا میں گیند بن کر تیز رفتاری سے دوڑنے والی پہلی جان دار مخلوق ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے اپنے ملک کے ریگستان میں پائی جانے والی سنہری پہیا مکڑیGolden  wheel spideکا بڑا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ اس کا سائنسی نام Carpra Chneauref Lava ہے۔ اس کے زرد بال ریگستان کی دھوپ میں سونے کی طرح چمکتے ہیں۔ دوسری مکڑیوں کی طرح اس کے بھی آٹھ پائوں ہوتے ہیں، جن کی مدد سے وہ چلتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کی مدد سے گیند کی طرح گول بھی ہوجاتی ہے۔
ریگستانی ٹیلوں کی ڈھلان پر اس کی رفتار پانچ فیٹ فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ محقق ہین شل کے مطابق اس کے پیر ایک سینڈ میں 44 بار گھومتے ہیں۔ 400 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والی گاڑی کے پہیے سی رفتار سے گھومتے ہیں۔
سنہری مکڑی دوڑ کے مقابلے یا شکار کے لیے اس رفتار سے نہیں دوڑتی، بلکہ وہ اپنا شکار کرنے والی بھڑوں سے بچنے کے لیے اتنی تیز دوڑ لگاتی ہے۔ یہ بھر مکڑی کے بل سے اسے کھود نکالتی ہے۔ یہ بل ٹیلے کی چوٹی پر ہو تو سنہری مکڑی وہاں سے نکل کر چند قدم دوڑنے کے بعد ادھر ادھر ہو کر اپنے پانچ جوڑ والے پیر موڑ کر تیسرے جوڑوں کی مدد سے گول ہو کر نکل بھاگتی ہے۔ اگر بل ٹیل کے نشینی یا نچلے حصے میں ہو تو اس کے ڈھلوان نہ ہونے کی وجہ سے اسے لڑھکنے کا موقع نہیں ملتا، وہاں یہ مکڑی گیند کی طرح گول ہو کر بھی خود کو بھڑ سے نہیں بچا پاتی۔ بھڑ اسے پکڑ کر ڈس لیتی ہے اور ریت میں اپنے انڈوں کے ساتھ دفن کردیتی ہے، جہاں ان انڈوں سے نکلنے والے بھڑ کے بچے اسے کھاجاتے ہیں۔
ہین شل کہتے ہں کہ یہی وجہ ہے کہ یہ مکڑیاں ریگستانی ٹیلوں پر اپنے بل بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتی رہتی ہیں، کیوں کہ خطرے کی صورت میں ٹیلوں کی ڈھلانیں بھاگنے میں ان کی بڑی مدد کرتی ہیں۔
سنہری مکڑی اس تیز دوڑ میں ہر چھے فٹ کے بعد رک کر آرام کرتی ہے۔ بعض اوقات یہ پیر پھیلا کر رکتی اور کئی قلابازیاں کھاتی ہے۔ نمیبیا کے ریگستان کے ٹیلے بہت ڈھلوان ہوتے ہیں اس لیے یہاں یہاں یہ سنہری ریگستانی مکڑی بھی تیز رفتاری کے ریکارڈ قائم کرتی ہے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close