Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
مضامین > معلوماتی
شہاب ثاقب
انوکھے درخت
دریائے نیل
شارک
طویل و مختصر...
لو سے بچنے کے...
سنہری...
شتر مرغ۔ سب...
پیاز کے عرق...
کھیدا
دریائے...
فیئری میڈوز
تاریخ لاہور...
راکا پوشی
ریڈیو۔۔۔ ایک...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

مضامین

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   پچھلا
 

شتر مرغ۔ سب سے بڑا پرندہ

 
  نسرین شاہین  
 
شتر مرغ کے بارے میںمشہور ہے کہ جب وہ کسی شکاری کو دیکھتا ہے تو اپنی گردن ریت میں دبالیتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اب اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ آرام کرتے وقت شتر مرغ اپنی گردن زمین پر جھکالیتا ہے۔
یہ دیکھنے میں بڑا معصوم معلوم ہوتا ہے۔ اس کی آنکھیں تمام جانوروں سے بڑی ہوتی ہیں۔ اس کا سر چھوٹا، گردن لمبی اور پتلی، ٹانگیں گردن کی طرح لمبی اور مضبوط ہوتی ہیں۔ پائوں کھر نما ہوتے ہیں۔ شتر مرغ کی چار انگلیوں میں سے دو ختم ہوچکی ہیں اور دو باقی ہیں۔ مگر ان ختم ہونے والی انگلیوں کے آثار باقی ہیں۔ ان دو انگلیوں میں لمبے اور تیز ناخن ہوتے ہیں۔ اپنے تیز ناخنوں سے وہ دشمن کا مقابلہ کرتا ہے۔
اس پرندے کو شتر مرغ اس لیے کہتے ہیں کہ قد و قامت اور چال ڈھال میں اونٹ جیسا ہوتا ہے مگر اس کے باوجود یہ پردار جانور ہے۔ فارسی زبان میں "شتر" کے معنی اونٹ اور مرغ کے معنی "پرندے" کے ہیں۔ اس لیے اس پرندے کو "شتر مرغ" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا پرندہ ہے۔ اپنے بھاری بھرکم جسم کی وجہ سے یہ اڑ نہیںسکتا۔ اس لیے خطرہ محسوس کرتے ہی تیزی سے بھاگ کر دو چلاجاتا ہے۔ اس کی مضبوط ٹانگیں اسے تیز دوڑنے میں مدد دیتی ہیں۔ اگر اسے گھیر لیا جائے تو یہ ڈٹ کا مقابلہ کرتا ہے۔ مقابلہ کرتے وقت یہ اپنے تیز ناخنوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
شتر مرغ ہمیشہ اکھٹے رہتے ہیں۔ یہ بڑا شرمیلا پرندہ ہے، مگر ہر وقت چوکنا رہتا ہے۔ اس کی لمبی گردن ریڈار کا کام سرانجام دیتی ہے۔ اپنی لمبی گردن سے یہ دشمن کو دور ہی سے دیکھ لیتا ہے۔ ماہر حیوانات کا کہنا ہےکہ شتر مرغ زمانہ قدیم کے ان پرندوں میں سے ایک ہے، جنہوں نے اپنی نسل کو اب تک محفوظ رکھا ہے۔ اس کا اصل وطن تو افریقا اور عرب کے ریگسان ہیں، مگر اب یہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی امریکا اور ایشیا کے بعض حصوں میں پایا جاتا ہے۔ ان تمام ممالک کے شتر مرغ میں قد و قامت اور حلیے کے اعتبار سے تھوڑا سا فرق ہوتا ہے۔
دنیا میں موجود پرندو میں شتر مرغ سب سے قدآور پرندہ ہے۔ عام طور پر شتر مرغ کا قد چھے تا آٹھ فیٹ ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی میں نمایاں حصہ اس کی گردن اور ٹانگوں کا ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کا وزن دو سو سے تین سو پونڈ یا ایک سو یا ایک سو پچاس کلو گرام ہوتا ہے۔ اس کے بازو یا پنکھ کمزور ہوتے ہیں۔ وزنی جسم ہونے کی وجہ سے یہ پرندہ ہونے کے باوجود اڑ نہیں سکتا۔ قدرت نے اس کمزوری کے بدلے میں اس کو بہت مضبوط ٹانگیں عطا کی ہیں، جن سے یہ بے حد تیز دوڑ سکتا ہے۔ عام طور پر اس کی رفتار تیس سے پینتیس میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔
شتر مرغ کی مادہ ایک وقت میں دس سے بارہ انڈے دیتی ہے۔ ایک انڈے کا وزن تقریبا تین پونڈ یعنی ڈیڑھ کلو گرام ہوتا ہے۔ دنیا میں موجود تمام پرندوں میں شتر مرغ کا انڈا سب سے بڑا اور وزنی ہوتا ہے مگر مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے اپنے وزن کی مناسبت سے یہ تقریبا سوواں حصہ ہوتا ہے، جو اس لحاظ سے تمام پرندوں میں سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ مادہ شتر مرغ انڈے دیتی ہے اور ان کو سینے کا کام نر شترمرغ انجام دیتا ہے۔ انڈے دینے کے بعد مادہ شتر مرغ ان انڈوں کے تین حصے کرتی ہے۔ ایک حصہ زمین میں دفن کرتی ہے۔ دوسرا حصہ دھوپ میں رکھتی ہے اور تیسرا حصے کو نر شتر مرغ کے سینے کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔ جب بچے نکل آتے ہیں تو نر شتر مرغ دھوپ والے انڈوں کو توڑ کر بچوں کو پلاتا ہے۔ جب وہ ختم ہوجاتے ہیں تو ریت میں دفن کیے ہوئے انڈوں کو نکال کر ان میں سوراخ کردیتا ہے۔ اس میں سے نکلنے والے مواد کو کھانے کے لیے چیونٹیاں اور دوسرے کیڑے مکوڑے جمع ہوجاتے ہیں۔ شتر مرغ انہیں پکڑ پکڑ کر وہ اپنے بچوں کے آگے ڈالتا ہے، جسے وہ شوق سے کھاجاتے ہیں۔
شتر مرغ انسان کو اپنی پشت پر بٹھا کر بڑی تیزی سے دوڑ سکتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں وہ آدھے گھنٹے بعد تھک جاتا ہے اور اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ شتر مرغ سیدھا بھاگنے کے بجائے لہرا کر دوڑتا ہے۔ ہر لمحہ دائیں بائیں مڑتا ہے، لہٰذا اس پر سوار کو بہت چوکس اور ہوشیار ہو کر بیٹھنا پڑتا ہے، ورنہ کسی بھی لمحے گرنے کا خطرہ رہتا ہے، شتر مرغ کا گوشت بے حد مزے دار اور طاقتور ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا اور انوکھا پرندہ ہے۔

 
Next   پچھلا

Bookmark and Share
 
 
Close